یمن میں حوثی اسٹریٹجک لحاظ سے بلند مقامات پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے طے شدہ حملے روک دیے ہیں

یمن میں حوثی اسٹریٹجک لحاظ سے بلند مقامات پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے طے شدہ حملے روک دیے ہیں

حوثی جنگجوؤں نے یمن میں پہاڑی علاقوں میں اسٹریٹجک پوزیشنز پر قبضہ کرنے کے لیے پیش قدمی کی۔ ان کا مقصد بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ افواج کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے درمیان رابطے کو منقطع کرنا تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری لمحات میں اس گروپ کے خلاف طے شدہ فضائی حملے منسوخ کر دیے تھے۔ حوثیوں کی یہ مبینہ پیش قدمی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پورے یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر تنازعے میں ایک نیا محاذ کھل گیا ہے اور خطے میں توانائی کی ترسیل کو لاحق خطرات کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے دوبارہ کی جانے والی درخواستوں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اتوار کے روز حوثی اہداف کے خلاف فضائی حملوں کی تیاری کر لی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب امریکی اہلکار طیاروں کو تیار کر رہے تھے اور ان پر بم لاد رہے تھے، تب ٹرمپ نے بالآخر اس آپریشن کو منسوخ کر دیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس بارے میں سوالات وائٹ ہاؤس کی طرف بھیج دیے، جس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ یمنی حکومت کی امریکی حمایت کے لیے کوشش رائٹرز کے حوالے سے چار ذرائع نے بتایا ہے کہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدر راشد العلیمی نے اتوار کے روز ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی اور امریکی فوجی مدد کی درخواست کی۔ دو ذرائع، جن میں ایک یمنی اور ایک مغربی عہدیدار شامل ہیں، نے بتایا کہ بات چیت کے دوران ٹرمپ نے فوجی مدد فراہم کرنے کا کوئی براہِ راست وعدہ نہیں کیا۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں