شامی وزیر خارجہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔
شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی سرکاری دورے پر جمعرات کی صبح اسلام آباد پہنچے۔ دفترِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر اسلام آباد پہنچنے والے وزیر کی تصاویر شیئر کیں۔ بیان میں کہا گیا کہ “آمد پر، معزز مہمان کا استقبال وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (مشرقِ وسطیٰ) نے کیا۔”
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب 2024 میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام کی عبوری قیادت علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر روابط بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک روز قبل دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ دونوں فریقین دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت کریں گے، باہمی تعاون کو مزید بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیں گے اور علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کریں گے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ دورہ پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
یہ دورہ مئی 2007 میں ولید المعلم کے دورۂ پاکستان اور دمشق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے جب پاکستان نے بدھ کے روز شام میں ایک فضائی اڈے پر اسرائیل کے “بلا اشتعال” حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایسے اقدامات میں “علاقائی امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچانے” کا خدشہ ہے۔
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن ‘الاخباریہ’ نے منگل کے روز ایک فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل نے شمال مغربی شام میں حلب کے قریب واقع ‘ابو الظہور’ اڈے کے رن وے اور ذخیرہ کرنے کی تنصیبات پر آٹھ فضائی حملے کیے۔ ایک الگ فوجی ذریعے اور اڈے کے قریب رہائش پذیر ایک شہری نے بتایا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
