پاپ آئیکون نازیہ حسن کو ان کی 26 ویں برسی پر یاد کیا جا رہا ہے۔

پاپ آئیکون نازیہ حسن کو ان کی 26 ویں برسی پر یاد کیا جا رہا ہے۔

معروف پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کی وفات کو چھبیس برس بیت چکے ہیں۔ پاکستان اور بیرونِ ملک ان کے مداح جمعرات (آج) کو ان کی 26 ویں برسی منا رہے ہیں۔ نازیہ حسن کا سفر موسیقی کی دنیا میں ممتاز پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کے سفر کا آغاز کم عمری میں ہی گانے “آپ جیسا کوئی…” سے ہوا، جس نے انہیں بین الاقوامی شہرت سے ہمکنار کیا۔ 3

اپریل 1965 کو پیدا ہونے والی نازیہ حسن پاکستان ٹیلی ویژن کے انتہائی مقبول پروگرام “سنگ سنگ” کے ذریعے منظرِ عام پر آئیں اور 80 کی دہائی کے اواخر تک ہر گھر میں پہچانا جانے والا نام بن گئیں۔ یومِ آزادی سے ایک روز قبل، 13 اگست کو ان کی بے وقت وفات نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا۔

پرائیڈ آف پرفارمنس نازیہ حسن نے متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے، جن میں پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ‘پرائیڈ آف پرفارمنس’ بھی شامل ہے۔ 1980 میں نازیہ نے “آپ جیسا کوئی…” کے ساتھ گلوکاری کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا البم ‘ڈسکو دیوانے’، جو 1981 میں جاری ہوا، اپنے وقت کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ایشیائی پاپ البم ثابت ہوا اور 14 ممالک کے سامعین تک پہنچا۔

مشہورِ زمانہ گیت “ڈسکو دیوانے” نوجوانوں کے لیے ایک ترانہ بن گیا اور اس قدر منفرد و انقلابی تھا کہ اس نے کرن جوہر کی 2012 کی فلم ‘اسٹوڈنٹ آف دی ایئر’ کے ایک حصے کو بھی متاثر کیا۔ صرف 15 سال کی عمر میں، نازیہ حسن 1980 میں انڈین فلم فیئر ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی گلوکارہ بنیں۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں