آپریشن شعبان: مزید چار عسکریت پسند ہلاک، ہلاکتوں کی تعداد 83 تک پہنچ گئی

آپریشن شعبان: مزید چار عسکریت پسند ہلاک، ہلاکتوں کی تعداد 83 تک پہنچ گئی

سکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور پولیس نے بلوچستان بھر میں اپنا مشترکہ ‘آپریشن شعبان’ جاری رکھا ہوا ہے اور مربوط کارروائیوں کے تازہ ترین مرحلے میں مزید چار عسکریت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ہے۔

یہ آپریشن اس وقت متعدد مقامات پر جاری ہے اور سکیورٹی فورسز فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ 5 جولائی سے اب تک ‘آپریشن شعبان’ اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں کی جانے والی دیگر سکیورٹی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 121 عسکریت پسند ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز صوبے کو مسلح عناصر سے پاک کرنے کی جاری مہم کے تحت عسکریت پسندوں کے خلاف فضائی اور زمینی دونوں طرح کی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تازہ ترین کارروائی دہشت گردی کے خلاف اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جو رواں ماہ کے اوائل سے جاری ہے۔

سکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ‘آپریشن شعبان’ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک صوبے سے آخری عسکریت پسند کا بھی خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

گزشتہ ہفتے زیارت میں فوج نے بتایا تھا کہ حالیہ پرتشدد واقعات کے دوران 42 سکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے، جن میں بلوچستان پولیس کے 27 اہلکار، فوج کے 11 اہلکار اور چار شہری شامل تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں