ریاض ہوائی اڈے پر حوثی حملے میں 12 افراد ہلاک؛ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مملکت پر گزشتہ ایک دہائی کے بدترین حملے کا ‘فیصلہ کن’ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔

ریاض ہوائی اڈے پر حوثی حملے میں 12 افراد ہلاک؛ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مملکت پر گزشتہ ایک دہائی کے بدترین حملے کا 'فیصلہ کن' جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔

ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ی مملکت میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا، جو حوثیوں کی جانب سے اس موسمِ گرما میں شروع کی گئی مہم کے شدت اختیار کرنے کے دوران پیش آیا۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق، ہوائی اڈے پر اس ہفتے ہونے والے تیسرے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی، بنگلہ دیش کے دو شہری، اور امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک شہری شامل تھا۔ حکام نے بتایا کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 309 افراد زخمی ہوئے۔

اگرچہ حوثیوں نے اس حملے کی براہِ راست ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن انہوں نے مملکت کے ہوائی اڈوں (سوائے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے) پر مزید حملوں کی دھمکی دی اور مسافروں کو خبردار کیا کہ وہ سفر نہ کریں۔ فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ‘ایکس’ (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر لکھا کہ “ہوائی اڈے اور فضائی حدود ہدف بننے کے خطرے سے دوچار ہیں اور ہماری افواج کے لیے آپریشن کا میدان ہیں۔”

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اس تنازعے میں حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے؛ یہ تنازعہ ایران کے خلاف اس جنگ کا تسلسل ہے جس کا آغاز امریکہ اور اسرائیل نے فروری میں کیا تھا۔

بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہونے والے اس حملے کے بعد ایمبولینسوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتالوں میں لایا گیا، جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز حوثیوں کے حملے کی مذمت کی اور ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں