عالمی سطح پر ہیضہ کی وبا میں شدت: عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ہنگامی اپیل

اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ کئی ممالک میں ہیضہ (Cholera) کے بڑھتے ہوئے نقصانات سنگین نوعیت اختیار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں فوری اور متحرک ردعمل کی شدید ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔

ہیضہ ایک تیزی سے پھیلنے والا متعدی مرض ہے جو گندے پانی یا آلودہ خوراک کے ذریعے پھیلتا ہے اور شدید دست اور قے کی شکایت پیدا کرتا ہے، جس سے اگر فوری طبی امداد میسر نہ ہو تو مریض میں شدید پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ خصوصاً تنازعات، غربت اور انفراسٹرکچر کی عدمِ موجودگی جیسے عوامل اس بیماری کو خطرناک بنا دیتے ہیں۔

WHO نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ کئی افریقی، ایشیائی اور لاطینی امریکی ممالک میں ہیضہ کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کا بنیادی سبب افراط زر، کھانے اور صاف پانی کی عدم دستیابی، شمالی-جنوبی شام کی صورتحال، اور شدید موسمی تبدیلیاں ہیں۔ اقوام عالم پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد ٹیکہ سازی، پانی کے نظام کی بہتری، محفوظ بیت الخلاء اور ہنگامی طبی خدمات کے لیے وسائل فراہم کریں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر اس بیماری کے پھیلاؤ کو بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ مزید ممالک تک پھیل سکتی ہے اور صحت کا ایک بڑا عالمی بحران بن سکتی ہے۔ خاص طور پر بچوں اور پسماندہ طبقات کے لیے اس کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ عوام کو صاف پانی پینے، ہاتھوں کی صفائی رکھنے، خوراک کو مناسب طریقے سے محفوظ اور پکانے، اور کسی بھی صحت کی خرابی کی صورت میں فوراً طبی مدد لینے کی تلقین کی گئی ہے

عالمی برادری کو فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ہیضہ کی اس وبا کو قابو میں لایا جا سکے:
بنیادی صحت سہولیات میں بہتری
احتیاطی تدابیر اور آگاہی مہمات میں اضافہ
متاثرہ علاقوں میں ٹیکہ کاری اور دواؤں کی فراہمی

ہیضہ کے خلاف حفاظتی انفراسٹرکچر کا قیام (جیسے صاف پانی، بیت الخلاء، اور صفائی کے نظام)
یہ صورتحال ہمیں اس امر کی یاد دہانی کراتی ہے کہ عالمی صحت صرف ایک ملک یا علاقے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ چیلنج ہے اور اس کا مقابلہ مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں