پنجاب میں مون سون بارشوں نے رُوح فرسا صورتحال پیدا کر دی ہے، جہاں دریائے راوی، ستلج اور چناب کے اطراف ہزاروں دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کی رپورٹ کے مطابق، سیلاب نے اب تک ۳۰ افراد کی جان لے لی ہے، جبکہ ۲,۳۰۸ موضع جات آبی لپیٹ میں ہیں۔ تقریباً ۱۵ لاکھ ۱۶ ہزار افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے کئی کو فوری طور پر محفوظ علاقوں تک پہنچانا ضروری ہے
ملتان ڈویژن ہی میں ۲ لاکھ ۶۱ ہزار ۷۴۷ افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جو حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ریلیف کی کارروائیوں کا واضح ثبوت ہے
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ سیلاب زدگان کو واحد ترجیح دی جائے اور ریلیف آپریشن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی-انہوں نے اضلاع میں ریسکیو اور رہائش کی فراہمی کے لیے انتظامات تیز کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
لاہور میں سیوریج لائنوں کے پھٹنے سے گلیوں میں گڑھوں اور سڑکوں میں بڑے شگاف بھی سامنے آئے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کی نقل و حرکت میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے سیالکوٹ ایئر پورٹ بھی سیلابی پانی سے متاثر ہوا، اور پروازوں کا شیڈول متاثر ہونے کے باعث وہاں بھی ایمرجنسی نافذ ہے
مزید برآں، PDMA نے اطلاع دی ہے کہ ۲ اور ۳ ستمبر کو ایک اور سیلابی ریلہ سندھ میں داخل ہونے کا خدشہ ہے، جو مزید ہنگامی صورتحال پیدا کر سکتا ہے
اس پورے بحران میں، حکومت کی ترجیحات واضح ہیں: تباہ شدہ بستیاں آباد کرنا، ریسکیو اور ریلیف آپریشن کو تیز کرنا، اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا۔ حساس صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے، ہنگامی اقدامات اور ملک گیر نگرانی جاری رکھی گئی ہے تاکہ اس قدرتی آفت سے کم سے کم نقصان ہو۔