پاکستان میں اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر انتباہ: مزدور خطرے میں

اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں نے پاکستان میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے گرمی کے اثرات میں خطرناک اضافہ ہونے کی وارننگ جاری کی ہے۔ وړینی پاکستانی حکومت نے اس تشویشناک تنذیر کو تسلیم کرتے ہوئے خاص اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مون سون کے زیادہ اثرات، شدید درجہ حرارت، اور غیر متوقع موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کے کئی علاقوں میں معمول بن چکی ہیں۔ قومی اقتصادیات میں زراعت، تعمیراتی شعبہ اور سب سے بڑھ کر غیر رسمی سیکٹر میں ہزاروں مزدور کام کرتے ہیں—یہی وہ طبقہ ہے جو مسلسل بیرونی موسم سے متاثر ہوتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی وارننگ کے اہم نکات:
گرمی کی شدت میں اضافہ: عالمی درجہ حرارت کی بڑھتی ہوئی لہر سے مزدوروں کا کام کرنے کا وقت محدود ہوا ہے، اور انھیں ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک حالات کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
محفوظ رہنے کے اقدامات کی ضرورت: محکمے چاہتے ہیں کہ مزدوروں کے لیے چھتری، پانی، ٹھنڈے آرام کے وقفے اور فیلڈ میں سائے کے انتظامات کو لازمی قرار دیا جائے۔
طبی امداد اور آگاہی: ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس جیسے مریضوں کے لیے اسپیشل ہینڈلنگ اور حفاظتی رہنمائی بھی فراہم کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

حکومتی ردِ عمل:
پاکستان کے متعلقہ وفاقی اداروں نے اس تشویش سے باخبر ہوکر ورکر سیکیورٹی پالیسی میں اصلاحات شروع کر دی ہیں۔ وفاقی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جلد ایک ریلیف ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا، جس میں ماحولیاتی، صحت، ایف او ڈبلیو، اطلاعات اور مزدور حقوق کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ان کا مقصد ناصرف فوری حفاظتی اقدامات لاگو کرنا ہے، بلکہ مستقبل میں ایسے موسموں سے نمٹنے کی حکمت عملی بھی ترتیب دینا ہے۔

متاثرین کے تاثرات:
لاہور، کراچی، اور اسلام آباد میں مختلف تعمیراتی سائٹس پر کام کرنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ بدستور حفاظتی اقدامات کا فقدان ہے۔ ایک مزدور نے بتایا، “گرمی اس قدر ہے کہ نیم رات کو بھی کام سے لوٹ کر تھکا ہوا محسوس ہوتا ہوں، لیکن کمپنی ہمیں صرف تھوڑی ‘شفٹ بریک’ دیتی ہے—کوئی بنیادی سہولت نہیں۔

خلاصہ:
اقوامِ متحدہ کی وارننگ پاکستان میں مزدور طبقے کو درپیش حقیقی خطرات کا عکاس ہے، اور یہ بیان کرتا ہے کہ معیشتی ترقی کے پیچھے محنت کشوں کی حفاظت کو پہلی ترجیح بنانا لازمی ہے۔ اگر حفاظتی تدابیر اور حکومتی پالیسی اصلاحات بروقت اور مؤثر انداز میں نافذ ہوں، تو نہ صرف مزدوروں کی زندگی محفوظ بنائی جاسکتی ہے بلکہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں بھی بہتری آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں