پاکستان میں موٹر سائیکل حادثات: وبائی نوعیت اختیار کرتی تازہ ترین تشویش

پاکستان میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، خاص طور پر موٹر سائیکلوں سے متعلق، آبادی اور معاشی ترقی کے ساتھ بڑھتے ہوئے ایک سنگین مسئلے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ روزانہ کم از کم 35 لوگ موٹر سائیکل حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اور مزید ہزاروں شدید زخمی ہوتے ہیں۔ اس طرح موٹر سائیکل حادثات ملک کی ٹریفک اموات کا تقریباً 40 فیصد حصہ ہیں، جو ایک نگران اور فوری توجہ طلب مسئلہ ہے۔

مسئلے کا پس منظر اور وجوہات
پاکستان میں موٹر سائیکل رش، دونوں شہروں اور دیہاتی علاقوں میں عام ہے، کیونکہ کم قیمت اور آسانی کی بناء پر یہ گاڑی طبقاتی فرق کو ختم کرنے کا سب سے سستا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، حفاظتی اقدامات جیسے ہیلمٹ کا استعمال نہ ہونا، تیز رفتار، اوورلوڈنگ، اور غیر انفراسٹرکچر — جیسے ناکافی ہائی وے ڈیزائنز — حالات کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔

معاشی اور سماجی اخراجات
موٹر سائیکل حادثات نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہیں، بلکہ ملکی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، ایسے حادثات پر ہونے والا سالانہ خرچ جو صحت کے اخراجات، معذوری، اور پیداواری نقصان کو شامل کرتا ہے، 3 فیصد جی ڈی پی تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ تعداد پاکستان کی سالانہ ترقیاتی رفتار کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔

حکومتی پالیسیز اور عوامی اقدامات
گزشتہ برس سے مختلف صوبوں نے اقداماتی قوانین متعارف کرائے ہیں۔ پنجاب اور سندھ حکومتوں نے موٹر سائیکل حادثات کم کرنے کے لیے نئی حکمت عملی متعارف کرائی ہے، جن میں ہیلمٹ استعمال کی پابندی، عوامی آگاہی مہم، اسپلٹ لینز کا قیام، اور لے ٹریفک سنسر سسٹمز کا نفاذ شامل ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے ایک اجلاس میں کہا:

“ہمیں حادثات کی تعداد کو نصف کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے، ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے خلاف جرمانے سخت کیے جائیں گے۔”

مشکلیں اور ترجیحات
تاہم، عملی طور پر لوگوں کی آمدنی کم ہونے اور ہیلمٹ کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس پابندی کا اطلاق مشکل ہے۔ ہیلمٹس کو سبسڈی یا مارکیٹ میں سستے دستیاب بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، دیہی علاقوں میں اس قانون کے نفاذ اور شعور کو فروغ دینے کے لیے کمیونٹی لیول پر مہمات کو فعال کرنا ضروری ہے۔

نتیجہ
موٹر سائیکل حادثات پاکستان کی نوجوان آبادی کے لیے “چھپی ہوئی وباء” ہیں۔ اگر عوامی اور حکومتی سطح پر باہمی تعاون، قانون کا نفاذ، اور شعور کی فراہمی میں بہتری لائی جائے تو اس بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ایسی کوششیں مستقبل میں انسانی جانوں کو محفوظ بنائیں گی اور معیشت کو بھی مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں