پاکستان اس سال ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی اہم ترین پیش رفت کے لیے تیار ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس سال تین نئے سب میرین (بحری) انٹرنیٹ کیبلز بچھائے جائیں گے تاکہ ملک کی انٹرنیٹ رفتار، استحکام اور 5G ٹیکنالوجی کے نفاذ میں بڑا سنگ میل حاصل کیا جا سکے۔ یہ اقدام ملک کی معیشت، تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے
پسِ منظر اور مقصد
پاکستان میں چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی انٹرنیٹ صارفین کی تعداد بڑھ رہی ہے—اب یوآئی پی صارفین کی تعداد 200 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم موجودہ پرانی اور غیر مستحکم کیبلز جیسے AAE-1 اور SEA-ME-WE-4 اکثر ٹریفک کی زیادتی اور خراب موسمی حالات کے باعث ڈاؤن ہو جاتے ہیں۔ نئے کیبلز، جیسے 2Africa، PEACE اور MGG-1، سسٹم میں اضافی بینڈوڈتھ فراہم کریں گے اور پاکستان کی ڈیجیٹل خودمختاری کو بڑھائیں گے۔ حکومت نے ان کیبلز کو 2025ء کے آخر تک فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
عالمی تعاون اور تکنیکی اثر
ان نئی کیبلز کے علاوہ پاکستان اہم بین الاقوامی سب میرین نیٹ ورکوں کا حصہ بن چکا ہے۔ PEACE Cable (Pakistan and East Africa Connecting Europe) اور SEA-ME-WE 6 جیسے منصوبے پاکستان کو ایشیا، افریقہ اور یورپ سے براہِ راست جوڑتے ہیں۔ ان منصوبوں کی مدد سے ملک کی رابطے کی صلاحیت میں قابلِ ذکر اضافہ ہو گا، جس سے کاروبار، دولت سازی، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ ملے گا
ملک کے لیے فوائد
تیز رفتار انٹرنیٹ: ان کیبلز سے بین الاقوامی ٹریفک میں تاخیر اور لوڈ کا بوجھ کم ہو گا، خاص طور پر دور دراز علاقوں اور 5G تعلقات میں بہتری آئے گی۔
ڈیجیٹل معیشت کا فروغ: کاروباری شعبے، آن لائن تعلیم، ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس اور الیکٹرانک خدمات کو جدید رفتار سے سپورٹ فراہم ہو گی۔
عالمی سرمایہ کاری کا دروازہ: بہتر انفراسٹرکچر سے بیرونی سرمایہ کار اور بین الاقوامی تعاون میں اضافہ ممکن ہے۔
ڈیجیٹل خلا کو کم کرنا: خصوصاً عورتوں اور دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ رسائی کو بہتر بنا کر ٹرانسفارمیشن ممکن ہو گی۔