چین کا شاندار عسکری مظاہرہ: صدر ژی جن پنگ کی زیرِ نگرانی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی پریڈ

29 اگست 2025 کو بیجنگ میں ہونے والے عظیم فوجی پریڈ میں چین نے عالمی سطح پر اپنی عسکری طاقت کا بلا لواحق مظاہرہ کیا۔ یہ تقریب صدر ژی جن پنگ کی زیرِصدارت ہوئی، جنہوں نے اس موقع پر متعدد ایسے رہنماﺅں کو مدعو کیا تھا جن پر عالمی پابندیاں عائد ہیں — ایک بے مثال اقدام جس نے بین‌الاقوامی سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی

پریڈ کی تفصیل اور اس کا پس منظر
یہ فوجی پریڈ چین کی اسٹریٹجک خود اعتمادی کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جس میں جدید ترین ٹینک، ڈرونز اور راکٹ سسٹم سمیت ہزاروں فوجی اہلکاروں نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد عالمی طاقتوں کو ایک واضح پیغام دینا تھا کہ چین اپنی خودمختاری اور دفاعی قوت میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ قابل ذکر بات یہ تھی کہ چین نے ایسے رہنماﺅں کو پہچانا جن پر مغربی ممالک نے پابندیاں لگا رکھی تھیں — ایک ایسا سیاسی قدم جس نے عالمی سفارتی حلقوں میں مختلف ردِعمل کو جنم دیا۔

عالمی سیاسی ردعمل اور اثرات
اس تقریب سے فوری طور پر روس اور ایران جیسے ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جنہوں نے چین کے اقدام کو عالمی طاقت توازن میں توازن کی بحالی کے طور پر سراہا۔ دوسری طرف، یورپ اور صدر امریکہ نے چین کے اس قدم کو تشویش کا باعث قرار دیا، اور اس حرکت کو ایک فاصلے بڑھانے کی کوشش قرار دیا جس کی وجہ سے عالمی سفارتی ماحولیاتی گلوبل تعلقات پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کی موجودہ عسکری حکمت عملی، خاص طور پر ریاستی لیڈروں کی شرکت کے حوالے سے، ایک ایسا پیغام ہے جس کا مقصد داخلی اور بیرونی گمان کو مستحکم کرنا ہے – کہ چین اپنی دفاعی صلاحیت کو جدید خطوط پر لے کر آگیا ہے۔

نتیجہ
چین کا یہ فوجی مظاہرہ، جس نے عالمی سطح پر عسکری اور سفارتی بحث کو نئی جہتوں سے روشناس کروایا، ہمیں بتاتا ہے کہ عالمی اشاراتی قوتیں اب نئے توازن کی تلاش میں ہیں۔ صدر ژی جن پنگ کی زیرِ نگرانی کی گئی یہ تیاریاں اور فوجی مظاہرہ، چین کی موجودہ عالمی موقف کو مزید مستحکم کرتے ہیں، اور مستقبل میں عالمی سیاست اور اس کے متوازن ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں