سولر تھرمو الیکٹرک جنریٹرز (STEGs)، جو روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے حرارت کے فرق کا استعمال کرتے ہیں، ہمیشہ اپنی کم موثریت (تقریباً 1٪) کی وجہ سے محدود رہے ہیں۔ لیکن حال ہی میں University of Rochester کے محققین نے ایک انقلابی پیش رفت کی ہے—انہوں نے نوینو تکنیک استعمال کرتے ہوئے “بلیک میٹل” تیار کیا، جس سے STEGs کی موثریت 15 گنا تک بڑھ گئی ہے اور یہ ٹیکنالوجی قابلِ عمل مستقبل کے راستے پر گامزن ہوئی ہے۔
کیا خاص بات ہے؟
محققین نے ٹنگسٹن کے ہاٹ سائیڈ کو ایک خصوصی فیمٹو سیکنڈ لیزر کے ذریعے نینو سکیل ساخت میں تبدیل کیا—جس کی وجہ سے وہ روشنی کو زیادہ مؤثر طریقے سے جذب کر کے حرارت برقرار رکھ سکتا ہے۔ اس کے اوپری حصے پر ایک “منی گارڈن” پلا سٹک لیئر ڈالی گئی تاکہ حرارت کا نقصان کم کیا جا سکے۔ الومینیم کے کولڈ سائیڈ پر بھی نینو ساخت کی ایجاد حرارت کے اخراج میں بہتری لاتی ہے۔ نتیجتاً یہ STEG ایک LED کو مکمل روشنی میں اکثر سورج کی روشنی کے 5 گنا تیز حالات میں روشن کرنے میں کامیاب ہوا—ایک غیر معمولی کامیابی جو عام STEGs کے بس کی بات نہیں۔
مستقبل میں اس کے فوائد:
مائکرو الیکٹرانکس اور اسمارٹ ڈیوائسز کی طاقت کو STEGs سے حاصل کرنے میں نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کو شمسی توانائی کے روایتی نظام کے ساتھ ملا کر زیادہ جامع اور مؤثر توانائی کے نظام تیار کیے جا سکتے ہیں—خاص طور پر کم توانائی والے آلات اور آف گرڈ حلوں کے لیے۔
مزید تجزیے اور عملی نفاذ سے یہ STEGs مستقبل میں حقیقی طور پر قابلِ عمل متبادل بن سکتے ہیں، حتیٰ کہ سولر پینلز کے ساتھ ضم ہو کر ان کی کارکردگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
خلاصہ
یہ مضمون “بلیک میٹل” کی دریافت—جو کہ روایتی STEGs کو 15 گنا زیادہ موثر بنانے میں مددگار ثابت ہوئی—کو تفصیل سے واضح کرتا ہے۔ یہ جدید مواد کی تشکیل اور حرارت کے انتظام سے توانائی کے شعبہ میں ایک تہلکہ خیز ترقی کو بیان کرتا ہے، جو سولر توانائی کو زیادہ مؤثر، ماحولیاتی اور عملی بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔