پاکستان نے اس سال گندم درآمد نہ کرنے کا فیصلہ سنایا: ذخیروں میں کفایت، حکومتی اعتماد

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ایک اہم اعلان کیا ہے: موجودہ زرعی ذخائر کی کافی دستیابی کی بنا پر اس سال گندم درآمد نہیں کی جائے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ملکی گوداموں میں گندم کی موجودہ مقدار قومی طلب پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر کافی ہے، اور اس تناظر میں درآمدی عمل کو غیر ضروری سمجھا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر گندم کی قیمتیں مستحکم ہیں، اس کے باوجود حکومت نے ملکی پیداوار پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، اور اس سے زرِ مبادلہ پر ممکنہ دباؤ میں کمی کا امکان ہے۔

اہم پہلو:
ملکی خود کفالت کا ثبوت: یہ اقدام بتاتا ہے کہ پاکستان کی زرعی پیداوار اور ذخائر بہتر سطح پر پہنچ چکے ہیں، اور اس میں خصوصی حکومتی منصوبہ بندی کا کردار ہے
اقتصادی بچت: گندم کی درآمد سے بچاؤ یہ بتاتا ہے کہ سرکاری خزانے کو غیر ضروری مالی بوجھ سے نجات مل سکتی ہے۔
زرِ مبادلہ پر دباؤ میں کمی: گندم درآمد کرنے سے درکار غیر ملکی کرنسی کی مانگ بھی کم ہوگی، جو ملکی مالیاتی استحکام کے لیے مثبت ہے

واقعے کا پس منظر:
پاکستان میں گندم صارفین کی اکثریت کے لیے بنیادی غذا رہی ہے۔ اگرچہ گزشتہ برسوں میں عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ رہا، لیکن اس بار حکومتی رپورٹوں اور زرعی پیش گوئیوں نے تسلیم کیا ہے کہ ملکی پیداوار اس قابل ہے کہ درآمد کا انحصار عارضی طور پر ختم کیا جا سکے۔

خلاصہ:
یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے ملکی زرعی اور اقتصادی حکمت عملی کا عکاس ہے، جو خود انحصاری کی سمت میں ایک مثبت قدم ہے۔ عوام کو سستا اور مستحکم آٹا دستیاب رہنے کا امکان پیدا ہوا ہے، جبکہ حکومتی وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کا بھی راستہ ہموار ہوا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں