ڈیجیٹل دور اور مطالعے کی عادت – کتاب سے اسکرین تک کا سفر

گزشتہ چند دہائیوں میں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ فارغ وقت میں کتابیں پڑھتے تھے، لائبریریوں میں گھنٹوں گزارا کرتے تھے اور مطالعے کو ذہنی سکون کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج کا نوجوان زیادہ تر وقت موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ کی اسکرین پر گزارتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس تبدیلی نے ہماری مطالعے کی عادت کو کمزور کر دیا ہے یا اسے نئے انداز میں زندہ رکھا ہے؟

کتاب اور اسکرین کا موازنہ
کتاب پڑھنے کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ ورق پلٹنے کی خوشبو، لکھنے والے کا اندازِ بیان اور یکسوئی کے ساتھ پڑھنے کا تجربہ اسکرین پر ممکن نہیں۔ دوسری جانب ڈیجیٹل مطالعہ آسان اور تیز ہے۔ گوگل اور ای بُکس کے ذریعے چند سیکنڈز میں ہزاروں موضوعات تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ اسکرین پر زیادہ دیر پڑھنے سے آنکھوں کی تھکن اور توجہ کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نوجوان اور جدید رجحان
پاکستانی نوجوانوں میں سوشل میڈیا اور بلاگز پڑھنے کا رجحان بڑھا ہے، لیکن ادبی اور سائنسی کتابوں سے دوری بھی واضح ہو گئی ہے۔ یہ ایک خطرہ ہے کیونکہ صرف مختصر پوسٹس اور اسٹیٹس پڑھنے سے علمی گہرائی پیدا نہیں ہو سکتی۔ مطالعہ صرف امتحان یا معلومات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے۔

آگے کا راستہ
ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیجیٹل سہولیات کو مطالعے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ ای لائبریریز، آن لائن بُکس کلبز اور آڈیو بکس کو عام کیا جائے تاکہ نوجوان مطالعے کی عادت کو برقرار رکھ سکیں۔ تعلیمی ادارے بھی نصاب کے ساتھ ساتھ طلبہ کو غیر نصابی کتب پڑھنے کی ترغیب دیں۔

نتیجہ:
کتاب اور اسکرین دونوں کی اپنی اہمیت ہے، لیکن اصل مقصد علم حاصل کرنا اور سوچنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ اگر نوجوان متوازن انداز میں دونوں ذرائع کا استعمال کریں تو مطالعہ ایک مضبوط روایت کے طور پر زندہ رہ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں