نوجوان اور ذہنی صحت – ایک نظر موجودہ چیلنجز پر

آج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی اور جدید سہولیات نے زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں نوجوانوں میں ذہنی دباؤ (Stress) اور ڈپریشن میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین اس لیے ہے کہ یہاں ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی اور سہولیات دونوں ہی محدود ہیں

نوجوانوں پر دباؤ کی وجوہات
نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا دباؤ تعلیم اور روزگار کے مسائل ہیں۔ امتحانات میں کامیابی کا دباؤ، فیملی کی توقعات، اور معاشی عدم استحکام ان کے ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے جہاں نوجوان دوسروں کی چمکتی دمکتی زندگی دیکھ کر خود کو کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔

نتائج اور اثرات
ذہنی دباؤ صرف موڈ پر ہی اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ نیند کی کمی، یادداشت میں کمزوری، فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں کمی اور حتیٰ کہ جسمانی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ کئی نوجوان اپنی الجھنوں کو چھپاتے ہیں جس کی وجہ سے معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے۔

حل اور تجاویز
ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے آگاہی ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس موضوع پر سیمینار اور کونسلنگ سیشنز کا اہتمام کریں۔ خاندان کا کردار بھی اہم ہے؛ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو صرف نمبر یا ملازمت کی دوڑ میں نہ دھکیلیں بلکہ ان کی دلچسپیوں کو بھی سپورٹ کریں۔ نوجوانوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ جسمانی سرگرمیوں (Exercise)، مراقبہ (Meditation) اور مثبت سرگرمیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

نتیجہ:
نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، اور ان کی ذہنی صحت براہِ راست ملک کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر معاشرہ ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا شروع کرے تو آنے والی نسلیں زیادہ پر سکون، پُراعتماد اور کامیاب ثابت ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں