پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کا مستقبل – مواقع اور چیلنجز

دنیا تیزی سے ڈیجیٹل سمت میں بڑھ رہی ہے اور پاکستان بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہے۔ آن لائن بینکنگ، ای-کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور فری لانسنگ نے ملکی معیشت کو نئی جہت فراہم کی ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا کے اُن چند بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں نوجوانوں کی اکثریت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آمدنی حاصل کر رہی ہے۔

مواقع:
پاکستان میں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً 19 کروڑ سے زیادہ افراد موبائل استعمال کرتے ہیں جبکہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ای-کامرس مارکیٹ 2025 تک کئی بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اسی طرح، فری لانسنگ کے شعبے میں پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، جہاں لاکھوں نوجوان آن لائن پلیٹ فارمز سے زرمبادلہ کما رہے ہیں۔

چیلنجز:
تاہم، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں کئی مشکلات بھی ہیں۔ انٹرنیٹ اسپیڈ اور کنیکٹیویٹی کے مسائل اکثر رکاوٹ بنتے ہیں۔ سائبر سکیورٹی کی کمی، آن لائن فراڈز اور ڈیجیٹل پالیسی کے عدم تسلسل کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو بھی خدشات لاحق رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل خواندگی (Digital Literacy) کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

مستقبل کی سمت:
اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر ان رکاوٹوں کو کم کرنے کی کوشش کریں تو پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت نہ صرف لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم کرے گی بلکہ ملکی برآمدات اور جی ڈی پی میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرے گی۔ مصنوعی ذہانت (AI)، بلاک چین، اور جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانا آنے والے وقت میں ترقی کی کلید ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ:
پاکستان کا مستقبل ڈیجیٹل معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر مواقع کو بروئے کار لایا جائے اور چیلنجز پر قابو پایا جائے تو آنے والے برسوں میں پاکستان خطے کی بڑی ڈیجیٹل طاقت بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں