جاپان نے عالمی سطح پر کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے— ‘فُگاگوNEXT’ نامی زیتّا-اسکیل سپرکمپیوٹر پر مبنی منصوبہ سامنے آیا ہے، جس کی لاگت $750 ملین بنتی ہے اور اسے ریکن (RIKEN)، فوُجیتسو (Fujitsu)، اور نویڈیا (Nvidia) کی مشترکہ کوششوں سے تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ طاقتور کمپیوٹر 2030 تک کوبے کی سہولیات میں فعال ہو جائے گا اور اپنی پچھلی نسل، فُگاگو سے پانچ گنا زیادہ ہارڈویئر کارکردگی اور بیس گنا نرم افزاری (software) مؤثریت فراہم کرے گا۔ جبکہ توانائی کے استعمال میں اسے صرف 40 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوگی، اس کے باوجود اس کی تیز ترین سطح 600 exaFLOPS (FP8 sparse precisão) ہوگی — جو اسے زیتّا-اسکیل یعنی دنیا کا سب سے تیز اور جدید سپرکمپیوٹر بناتا ہے۔
اہم اثرات و فوائد:
AI اور ایچ پی سی (HPC) کا امتزاج: FugakuNEXT جدید Nvidia AI سافٹ ویئر جیسے CUDA-X، TensorRT، اور NeMo کو استعمال کرتے ہوئے AI-driven سائنس، ماحولیاتی تحقیق، دوائیوں کی دریافت، آفات سے نمٹنے اور صنعتی ترقی میں اپنی خدمات فراہم کرے گا۔
ٹیکنالوجی اور قومی حکمتِ عملی: یہ پروجیکٹ نہ صرف تکنیکی سطح پر بڑا قدم ہے بلکہ جاپان کے سیمی کنڈکٹر صنعت میں عالمی سطح پر قیادت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی مثال بھی ہے۔
توانائی اور ماحول کی حساسیت: زیتّا-اسکیل کارکردگی کے باوجود توانائی میں مؤثر ہونا اس کی سب سے متاثر کن خصوصیت ہے، جو مستقبل کے بڑے انفراسٹرکچر کے لیے رہنمائی فراہم کرے گی۔
خلاصہ
یہ مضمون جاپان کے جدید ترین سپرکمپیوٹر FugakuNEXT کو اجاگر کرتا ہے، جو 2030 تک فعال ہو کر دنیا کے نام نہاد زیتّا-اسکیل کمپیوٹر کی حیثیت اختیار کرے گا۔ اس کے ذریعے AI اور سائنس کے ملاپ سے عالمی تحقیق اور صنعتی ترقی میں نئے دروازے کھلیں گے، جبکہ توانائی میں کفایت شعاری اسے ماحولیاتی انتظام میں ایک مثال بناتی ہے۔ جاپان کی یہ پیش رفت نہ صرف ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں اس کی پہلی صفوں میں موجودگی کو ثابت کرتی ہے، بلکہ مستقبل میں تحقیق اور ترقی کے لیے نئی راہیں کھولتی ہے۔