مقبول ٹک ٹاک اسٹار سُمیرہ راجپوت کی موت نے شوبز دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا

موسمِ گرما کے آغاز میں شوبز کی دنیا میں ایک صدمے کی خبر نے سب کو دہلا دیا جب نوجوان ٹک ٹاک اسٹار سُمیرہ راجپوت کا سندھ کے ضلع گھوٹکی میں اپنے گھر پر انتقال ہو گیا۔ پولیس نے واقعات کے پسِ منظر کی تحقیق شروع کر دی ہے، اور ابتدائی رپورٹس میں شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر انہیں زہریلے گولیوں کے ذریعے قتل کیا گیا ہے

سُمیرہ ایک ابھرتی ہوئی آن لائن انفلونسر تھیں، جن کے ٹک ٹاک ویڈیوز میں خاندان، ٹرینڈز اور موسیقی کا حسین امتزاج دکھائی دیتا تھا اور انہیں ہزاروں مداحوں نے پسند کیا تھا۔ افسوسناک مرحلہ یہ ہے کہ جب ان کی لاش ملی، وہ کسی تقریب یا کسی عوامی مقام پر نہیں بلکہ ان کے گھر پر تھی — اور اس کی دریافت میں زیادہ وقت گزر چکا تھا، جو واضح طور پر ایک سنگین صورت حال کا حوالہ ہے

سُمیرہ کی 15 سالہ بیٹی اور بھائی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں طے شدہ فرضی شادی کے دباؤ میں مبتلا کیا گیا تھا، اور بالآخر انہیں مضر دوا دی گئی جس نے ان کی موت کا سبب بنی۔ حیران کن طور پر پولیس نے واقعے کو سنگین طبی معاملات میں نہیں لیا اور فوراً دو افراد کو حراست میں لے لیا — لیکن تاحال فی الفور کوئی سرکاری بیان یا زرائع تصدیق مہیا نہیں کیے گئے

یہ افسوسناک واقعہ صرف ایک انفلونسر کی موت نہیں، بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کی حفاظت، ذہنی دباؤ اور سوشل میڈیا کے خطرات پر ایک زوردار تشویشناک سوال ہے۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایک اور نوجوان ٹک ٹاکر سناء یوسف کا قتل بھی اسی طرح کے خوفناک انداز میں ہوا تھا — اس سلسلے کے واقعات نے عوامی احساسات میں رہنمائی کی ضرورت مزید واضح کی ہے

خلاصہ:
سُمیرہ راجپوت کی موت ایک غمناک واقعہ ہے جو پاکستانی شوبز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زور دار بحث کا باعث بنی۔
ان پر مبینہ قتل کے الزامات اور قانونی کارروائی نے معاشرے کے لیے سنگین متنبہ پیغام چھوڑا ہے۔
یہ واقعہ نوجوان خواتین کی آن لائن حفاظت، سماجی دباؤ اور ذمہ دارانہ والدین اور ریاستی کردار کے بارے میں گہری سوچ کو جنم دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں