پاکستان نے عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت ہر سال تقریباً 8,000 بچوں کو کینسر کے لیے معیارِ زندگی کی حامل دوائیں بلاتعطل طور پر فراہم کی جائیں گی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان عالمی پلیٹ فارم فار ایکسیس ٹو چلڈرن کینسر میڈیسنز (Global Platform for Access to Childhood Cancer Medicines) میں شامل ہوا ہے۔ صحتِ عامہ کے وزیر سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر کہا
“ہمارا مقصد آسان لیکن عظیم ہے — زندگی بچانا۔ موجودہ صورتحال میں جہاں اسعافتی شرح صرف 30٪ ہے، ہم اس کو 60٪ تک بڑھانے کا عزم رکھتے ہیں”
اہم نکات:
سالانہ تقریباً 8 ہزار نئے بچوں میں کینسر کے کیسز تشخیص ہوتے ہیں، اور معاہدے کے ذریعے انہیں مفت اور قابل اعتماد علاج فراہم کیا جائے گا
اس اقدام کا مقصد بچوں کے کینسر کے شکار خاندانوں پر اقتصادی بوجھ کو کم کرنا اور ملک میں علاج کی سہولتوں کو فروغ دینا ہے۔
یہ معاہدہ ایک نیا سنگِ میل ہے کیونکہ پاکستان میں کینسر کے علاج کی سہولیات مہنگی اور محدود ہیں، اور اکثر خاندان علاج کے دوران شدید مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس منصوبے کی بدولت لاکھوں متاثرہ خاندانوں کو ایک امید کی کرن ملے گی۔
خصوصی اہمیت:
یہ اقدام حکومت اور عالمی اداروں کے درمیان صحت کے شعبے میں شراکت داری کی شاندار مثال ہے۔
مستقبل قریب میں اس پروگرام کے اثرات سے ملک میں کینسر کے شکار بچوں کی زندگیوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔