پاکستان میں سرکاری و عالمی ادارہ صحت (WHO) کی مشترکہ کاوشوں کے تحت ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ویکسین مہم کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جو ملک میں گردشی کینسر (سرویکل کینسر) کی روک تھام کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔ اس تاریخی مہم کے سلسلے میں پاکستان کے وفاقی محکمہ صحت اور WHO نے پنجاب سمیت چند علاقوں میں تقریباً 49,000 صحت کارکنان کو تربیت دی ہے تاکہ ازدیادہ 13 ملین لڑکیوں (عمر کے لحاظ سے 9 تا 14 سال) کو صحیح طریقے سے ویکسین فراہم کی جا سک
یہ مہم 15 تا 27 ستمبر 2025 کے دوران پنجاب، سندھ، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور آزاد کشمیر میں لاگو کی جائے گی
اس سے قبل پاکستان میں سرویکل کینسر خواتین میں تیسرا سب سے عام کینسر شمار ہوتا ہے، اور سالانہ تقریباً 5,000 سے زائد نئے کیسز سامنے آتے ہیں، جن میں 64% یا تقریباً 3,200 خواتین اس مرض کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتی ہیں
متعدد مطالعات کے مطابق، ملک میں سرویکل کینسر کے حقیقی بوجھ کا تخمینہ موجود تعداد سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ اس کا اندراج کم اور اسکریننگ محدود ہیں۔ ایک حالیہ WHO مطالعے نے 18 طبی مراکز میں 2021–2023 کے درمیان تقریباً 1,580 کیسز رجسٹر کیے، جو بیماری کی شدت اور بے خبری کو ظاہر کرتے ہیں
جبکہ اگر ویکسینیشن نہ ہوتی تو آئندہ دہائیوں میں مریضوں کی تعداد تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔
یہ مہم نہ صرف ایک طبی اقدام ہے بلکہ پاکستان کے لیے ایک بڑے سماجی، اقتصادی اور انسانی حقوق حاصل کرنے کی سمت میں اہم قدم ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف خدمات صحت کا معیار بلند ہوگا بلکہ طویل مدتی طور پر بے شمار جانوں کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔