پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم اور حکومتی اقدامات

پاکستان اب بھی دنیا کے ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو (Polio) مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ جولائی 2025 میں وزیر اعظم شہباز شریف نےپولیو کو جڑ سے ختم کرنے عزم کا اعادہ کیا، اور ملک گیر اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے

وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد میں پنجاب کے وزیر صحت کے ساتھ ہونے والی اہم ملاقات میں جعلی ادویات کے خلاف مشترکہ کارروائی، پولیو مہم کی ہم آہنگی، ڈینگی کی روک تھام، اور ڈیجیٹل صحتی نظام کی ترقی جیسے امور زیرِ بحث لائے
اس سیاق میں، ڈی آر اے پی (DRAP) نے جدید بارکوڈ سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے ہر دوا کا منفرد کوڈ ہوگا اور صارفین اسے اسکین کر کے دوا کے اصلی ہونے اور قیمت کی تصدیق کر سکیں گے

حکومت نے اس مقصد کے تحت قومی حکمت عملی برائے پولیو کے خاتمے کا منصوبہ بھی مرتب کیا ہے، اور سماجی آبادی کو مہم میں شراکت دینے کی اپیل کی گئی ہے

پریشانی کی بات یہ ہے کہ پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو غلط ریکارڈ سازی، ویکسین کی ناقص کوالٹی، اور عوام میں منفی بیانیہ جیسے چیلنجز درپیش ہیں
ان رپورٹس کے مطابق، فیلڈ کارکنان انتظامی غفلت اور عدم جوابدہی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اور زبانی ویکسین کی محدود کارکردگی نے نئی وبائی صورتیں پیدا کرنے کا خدشہ بڑھا دیا ہے

مجموعی طور پر، حکومتی اقدامات مثبت سمت میں ہیں—بارکوڈ سسٹم، وفاقی و صوبائی تعاون، اور وزیرِ اعظم کا عزم قابلِ تعریف ہیں—لیکن اس میں عوام کا اعتماد جیتنا اور مؤثر تعمیل یقینی بنانا اشد ضروری ہے۔ اگر یہ مسائل حل ہوئے، تو پاکستان واقعی اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ کر سکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں