ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ایران سے منسلک جہاز رانی کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کا مکمل محاصرہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز کو ایران سے منسلک جہازوں کے علاوہ دیگر تمام بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
’ٹروتھ سوشل‘ (Truth Social) پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے اس تزویراتی آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کو یقینی بنانے کا سہرا امریکی فوج کے سر باندھا اور کہا کہ “امریکی فوج کی زبردست طاقت” کی بدولت “تیل کی ترسیل ایسی ہو رہی ہے جیسی پہلے کبھی نہیں ہوئی”۔
ٹرمپ نے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دنیا بھر میں موجود افواج میں اپنی فوج کو “سب سے طاقتور” قرار دیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز اب “ایران کے علاوہ” تمام جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہے، اور انہوں نے تہران کی قیادت پر “تشدد پسندانہ” اور “مذموم” راستہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔
ٹرمپ نے کہا، “لہٰذا ہم مکمل ناکہ بندی (محاصرہ) کریں گے، لیکن یہ صرف ان جہازوں پر لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں سے آ یا جا رہے ہوں، یا جن پر ایرانی کارگو سے متعلق کوئی بھی سامان لدا ہوا ہو۔”
امریکی صدر نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ اس ناکہ بندی کا نفاذ کیسے کیا جائے گا اور نہ ہی اس اقدام کے پیچھے کارفرما قانونی ڈھانچے کی وضاحت کی۔