پاکستان افغانستان میں معمول آنے کی امید رکھتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

کورونا کی تیسری لہر: افواج قوم کی حفاظت کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان افغانستان میں معمول آنے کی امید رکھتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر۔

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی۔ ایس۔ پی۔ آر۔) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے حالات کو معمول پر لانے کے حوالے سے بہترین کی امید کر رہا ہے۔

طالبان کے قبضے کے بعد پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ، پاک فوج کے ترجمان نے کہا۔ کہ اس وقت افغانستان میں کوئی خانہ جنگی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ملک کی صورتحال غیر مستحکم ہے۔ اور اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

پاک افغان سرحد پر صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا۔ کہ خدشات ہمیشہ موجود تھے ۔اور “ہم نے خطرات سے بچنے کے لیے سرحد پر سیکورٹی سخت کرنے کے اقدامات شروع کر دیے تھے”۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سرحد پر سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔ اور وہاں ہر نقل و حرکت کنٹرول میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 15 اگست کے بعد پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو کئی بار بند کرنا پڑا اور دوبارہ کھولنا پڑا۔

ڈی۔ جی۔ آئی۔ ایس۔ پی۔ آر۔ نے کہا کہ افغان نیشنل آرمی کے دستوں نے کئی بار پاکستان میں پناہ لی۔ مزید کہا: “ہم نے انہیں فوجی اصولوں کے تحت محفوظ راستہ فراہم کیا”۔

2

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے۔ کہ ٹی۔ ٹی۔ پی۔ کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سرحد پر “ممکنہ پناہ گزینوں کے بحران” کے بارے میں ، انہوں نے کہا کہ اس وقت سرحد پر کوئی پناہ گزین نہیں ہیں۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان افغانستان میں تشدد کا سب سے بڑا ہدف رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 152 ارب ڈالر خرچ کرنے پڑے۔

بھارت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقی پڑوسی نے افغانستان میں انتہائی منفی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے سابقہ ​​افغان قیادت اور افواج کو پاکستان کے خلاف اکسایا۔

را کے زیر اہتمام ممکنہ دہشت گرد حملوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈی۔ جی۔ آئ۔ی ایس۔ پی۔ آر۔ نے کہا کہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ فوج ان سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے پاکستان میں چینی شہریوں پر حالیہ حملوں کے بارے میں بھی بات کی ۔اور کہا کہ غیر ملکی شہریوں کی حفاظت کو بڑھا دیا گیا ہے۔

..مزید پڑھیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں