سپریم کورٹ پاکستان میں پہلی مرتبہ خاتون جج مقرر

سپریم کورٹ پاکستان میں پہلی مرتبہ خاتون جج مقرر

سپریم کورٹ پاکستان میں پہلی مرتبہ خاتون جج مقرر۔

جسٹس عائشہ ملک کی پہلی پاکستانی خاتون جج بنیں گی۔ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ترقی کے بعد پاکستان سپریم کورٹ کی پہلے خاتون جج بنیں گی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے انہیں اس عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔ اور تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 9 ستمبر کو طلب کیا گیا تھا۔

جسٹس مشیر عالم 17 اگست کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ اور جسٹس عائشہ ان کی جگہ لیں گی۔ جسٹس عائشہ ملک لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کی سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ وہ 27 مارچ 2012 سے لاہور ہائی کورٹ کی جج ہیں۔

2

انہوں نے گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس ، کراچی سے بی کام کیا۔ اور لاہور کے پاکستان کالج آف لاء میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے اپنی LLM ہارورڈ لاء سکول سے مکمل کی جہاں انہیں لندن H Gammon Fellow 1999-1999 کا نام دیا گیا۔

تین بچوں کی ماں غربت کے خاتمے ، مائیکرو فنانس اور ہنر کی تربیت کے پروگراموں پر کام کرنے والی این۔ جی۔ اوز۔ کے لیے بون کیس لڑتی تھیں۔

عدالت عظمیٰ میں ترقی کے بعد جسٹس عائشہ ملک 10 سال تک بطور جج خدمات انجام دیں گی۔ وہ جنوری 2030 میں جسٹس یحییٰ آفریدی کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کی چیف جسٹس بھی بن سکتی ہیں۔

پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک تھا جس نے سپریم کورٹ میں خاتون جج مقرر نہیں کی گئی تھی۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ایک رپورٹ میں کہا ہے۔ کہ ملک کے صرف 5.3 فیصد جج خواتین ہیں۔ یہ تعداد جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔

پاکستان نے خالدہ راشد خان کو 1974 میں اپنی پہلی خاتون جج مقرر کیا تھا۔ انہیں اینٹی کرپشن جج مقرر کیا گیا۔ اور پھر 1994 میں ہائی کورٹ میں ترقی دی گئی

..مزید پڑھیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں