میرے محسن

میرے محسن

میرے محسن

کالم نگار: نویدانور (ایم۔اے، بی۔ایڈ)

انسان زندگی میں بہت کچھ سیکھتاہے۔ کبھی ماحول سے کبھی اپنے اہل وعیال سے کبھی دوستوں سے تو کبھی اپنی ہی غلطیوں سے بہت سے سبق حاصل کرتا ہے۔ دوست انسانی زندگی میں بہت اہم کردارادا کرتےہیں ۔ دوست انسان کی شناخت ہوتےہیں۔ دوستوں کی وجہ سےانسان پہچانا جاتا ہے۔

رائے اکبر علی کھرل میرے بہت اچھے دوستوں میں سے ہیں۔ ان کی زندگی میرے لیے اک کھلی کتاب کی سی ہے۔ موصوف ان لوگوں میں سےایک ہیں جنہوں نے زندگی میں بہت محنت کی۔۔لیکن کبھی تھکن محسوس نہیں کی۔ناکامیوں کا سامناکیا۔۔لیکن مستقل مزاجی کا مظاہرہ بھی کیا۔لوگوں کی مخالفتوں کا سامنا۔۔کیالیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔


ہرموقعے پر جرات، بہادری اور استقلال کی نئ داستان رقم کی۔ اکبر علی 12جون 1979کوضلع ننکانہ صاحب کے ایک چھوٹے سے گاؤں چک نمبر 12/68 بگی مسجدکے ایک متوسط گھرانے میں پیداہوئے، بچپن سے ہی پڑھنےکاشوق اور کچھ کردکھانے کی جستجو دل میں تھی۔


گاؤں کے سکول سے پرائمری کرنے کے بعدگورنمنٹ ہائی سکول سیدوالہ سے میٹرک تک علم کے نور سےمنورہوئے۔ دوسرے طلباء کی طرح ان کا بھی دل چاہ رہاتھا کہ ایف اے کے لیے ڈگری کالج جڑانوالہ میں داخلہ لیا جائے۔ لیکن وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہواتا ہے۔

جیسے فراز نے کہاتھا:
“سب خواہشیں پوری ہوں فراز ایسا نہیں ہے
.جیسے کئ اشعارمکمل نہیں ہوتے”

2


گھریلو حالات نے ساتھ نہ دیا تو والدمحترم نے کہابیٹا تم گھرمیں سب سے بڑے ہو اب میرے ساتھ کام میں ہاتھ بٹایاکرو، بڑا بھائی ہونے کے ناطے چھوٹے بہن بھائیوں کابوجھ بچپن سے ہی ان کے کندھوں پر لاددیاگیا۔موصوف نے اپنی حسرتوں کا گلا گھونٹتے ہوئے تعلیم کو شروع ہونے سےپہلے ہی خیرباد کہہ دیااور گوالے کی حیثیت سے دودھ کاکام شروع کردیا۔

اکبر سائیکل پرسوار ہوکر بڑاگھر تک دودھ تو فروخت کرتالیکن کالج جاتے لڑکوں کو دیکھ دل میں کہیں نہ کہیں ایک امنگ ابھرتی کہ مجھے بھی اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہیے۔ اکبرعلی نے کام کے ساتھ تعلیم کوجاری رکھنے کےلیےپرائیوٹ طالب علم کی حیثیت سے لاہوربورڈ کی طرف سے ایف اے کاداخلہ بھیجوادیا۔

دن میں دودھ کاکام اور رات کوامتحان کی تیاری کرکے امتحان دیااور اچھے نمبروں سے کامیاب ہوئے۔اس کامیابی نے انہیں منزل کی جانب ایک اور قدم آگے بڑھادیا۔کسی دوست کے مشورے پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرف سے پی ٹی سی میں داخلہ لیا۔ 1998 میں پی ٹی سی کی ڈگری حاصل کی۔۔اب انہیں محسوس ہونے لگاکہ تعلیم حاصل کرنا ان کےلیےنہایت ضروری ہے۔

انہیں لگنے لگاکہ میں اس کام کےلیےنہیں بناجومیں کررہاہوں۔دل کسی کونے سے صداآتی کہ اکبرعلی تمہیں آگے نکلناہے۔2004 میں انہوں نے بی۔اے کاامتحان پاس کرتےہی بی۔ایڈ کا داخلہ بھیج دیا۔اور2007 میں بی۔ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔اسی دوران پنجاب پولیس کی بھرتی شروع ہوئی تو دوسرےلڑکوں کی طرح انہوں بھی اپلائی کیا۔قسمت نے ان کا ساتھ دیا اور وہ بطورسپاہی بھرتی ہوگئے۔

2

ٹرینگ مکمل کرنے کےبعدباقاعدہ طورپرڈیوٹی شروع ہوئی تو انہیں اس کام میں تھکان سی محسوس ہونےلگی۔ایک بات آپ کو بتاتاچلوں کہ انسان جس کام کے لیے بناہوتاہے اسے اس کام میں تھکان یا بوریت محسوس نہیں ہوتی لیکن جس کام کےلیے انسان بنانہیں ہوتا پھرچاہے وہ کمشنرکی سیٹ ہوانسان اس سے بورہونےلگتاہے، انسان کا اس کام میں دل نہیں لگتا۔

دوسال نوکری کرنے کے بعد2009 میں ایجوکیٹرزکی بھرتی شروع ہوئی توانہوں نے پولیس کی نوکری سے استعفیٰ دیا اور ایجوکیٹرکےلیے انٹری ٹیسٹ دیاجس میں وہ کامیاب ہوئے چونکہ بی۔اے بیس پہ بھرتی تھی لیکن ان کا ایم۔اےتھااس لیے میرٹ اچھابنا۔انٹریو کلیئرہوااور گورنمنٹ پرائمری سکول روشن شانی میں بطورایجوکیٹرڈیوٹی سرانجام دینے لگے۔

ابھی امتحان اور بھی ہیں۔ دوسال تک اسی سکول میں بچوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کرتےرہے۔2011 میں کسی نے عدالت میں چیلنج کردیا جس کی وجہ سے انہیں نوکری سے فارغ کردیاگیا۔لیکن انہوں ہمت نہ ہاری اورچیلنج کرنے والے کو اسی کے حال پہ چھوڑدیا۔

“انا کی موج مستی میں ابھی بھی بادشاہ ہیں ہم
جو ہم کو توڑ دیتا ہے ، ہم اس کو چھوڑ دیتے ہیں”۔

3


اسی دوران انہوں نے اسٹیٹ لائف کوجوائن کیا اور جلد ہی سیلزآفیسربننے میں کامیاب ہوئے۔2013 میں ایم۔ایڈ کی ڈگری حاصل جوکہ اس وقت تک علاقے میں کسی نے حاصل نہ کی تھی۔ان کے اس سفر میں چھوٹے بھائی دودھ کاکام سنبھالنے لگے جس میں اللہ تعالی نے بہت برکت ڈالی اور ان کا گھرانہ گاؤں کے اعلی گھرانوں میں شمارہونےلگا۔


2017 میں گورنمنٹ کے ایسے سکول جن کی کارکردگی ناقص تھی وہ اخوت کے حوالےکیے جن میں ننکانہ صاحب کے 34 سکولز آئے۔ان سکولز کے لیے اخوت کوسٹاف درکار تھا جس کے لیے انہوں نے باقاعدہ انٹرویولیا۔انٹرویو اخوت سکولزپراجیکٹ کے ڈسٹرکٹ مینجنگ آفیسر چوہدری نعیم حیدر صاحب لےرہےتھے۔انہوں نے اکبر علی کی، عمر، تجربہ اور تعلیم کودیکھتےہوئے کہاکہ آپ بطور ٹیچر کام کریں۔

آپ جیسے قابل لوگوں کےلیے آگے اور بہت مواقعے ہیں۔17 مارچ 2017 کو انہوں نے گورنمنٹ پرائمری سکول چک نمبر10/63 منشی والا میں ہیڈ ٹیچر کا چارج سنبھالا، ان کی محنت، قابلیت اور کام کرنے کے انداز میں کوئی شک نہیں تھا،انہوں ڈیڑھ سال کاعرصہ ہمارے ساتھ گزاراانہوں نے کبھی کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا اور نہ ہمیں کرنے دیا۔چونکہ وہ سرکاری سیکٹر میں کام کرچکےتھے ان کے پاس کافی تجربہ تھا جو میرے لیے بہت مفیدثابت ہوا۔

4

میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا، وہ کہاکرتےتھے کی آفیسر کو کبھی نیگیٹو پوائینٹ نہ دو۔اپناکام اچھے سے کرو۔جوکام کرواسے مکمل کرو۔کسی کام کوادھوارانہ چھوڑو، آج ان کے بتائی باتیں بہت کام آرہی ہیں۔ قدرت کیسے کیسے رنگ انسان کودکھاتی ہے۔ کیسے بدلتاہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔

اگست 2018 میں ادارے کو کلسٹر کوآرڈینیٹرز کی بھرتی کرناپڑی جس کےلیے سب سے پہلے موصوف کوکال موصول ہوئی کی کہ آپ کا انٹرویوہے۔
انٹرویومیں کامیاب ہوئے اور اخوت سکولز پراجیکٹ میں ہیڈ ٹیچرسے بطور کلسٹرکوآردڈینیٹر تعینات ہوئے۔ادارے نے 125سی سی بائیک دی اور ضلع ننکانہ کے گیارہ سکول ان کے ہینڈ اوور کیے۔آج وہ ان سکول میں کوآرڈینیشن کاکام کررہےہیں اور اپنی زندگی کوانجوائےکررہے ہیں۔

ان کا کہناہے کہ میں نے اس سے پہلے بھی نوکریاں کی ہیں لیکن جو مزہ اس کام میں ہے وہ سکون کسی اور کام میں نہیں ملا۔ آپ نہایت شریف، ملنسار اور حمدردوشفیق انسان ہیں۔ اپنی عملی زندگی میں بھی زیادتی کرنے والے سے بھی کبھی بدلہ نہیں کیابلکہ ہمیشہ تحمل اور بردباری کامظاہرہ کرتےہیں۔


ہمیشہ دوسروں کی مددکرنا،دوسروں کی بھلائی کرنا ان کی صفات میں سے ہے۔وہ ہمیشہ کہتےہیں کہ چھوٹی چھوٹی نیکی ہاتھ سے نہ جانے دیں پتہ نہیں اللہ پاک کو کونسی ادا پسند آجائے۔وہ اکثر ڈیوٹی پہ جاتے ہوئے کسی راہیگر مسافرکولفٹ دےدیتےہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کئ بار ،میرے ساتھ اس طرح کی چھوٹی نیکی آپ کو کسی بہت بڑے نقصان سے بچالیتی ہے۔

5

وہ اپنی ذندگی کاایک واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے زمین ٹھیکے پہ لی ہوئی تھی اور زمین کے مالک کو ٹھیکے کی رقم دینے کےلیے جارہاتھا کہ میرے راستے میں ان کے گاؤں کی ہی ایک بوڑھی عورت دھوپ میں بیٹھی ہوئی تھی۔اس نے کہا بیٹامجھے بھی لے چلو۔

اس عورت سے پوچھا کہ آپ نے کدھر جاناہے تو اس نے بتایاکہ میں نے پل کمہاراں جانا ہے رائے صاحب نے کہاکہ ماں جی میں نے تو اس طرف نہیں جانا میں نے تو اڈاعلی جج کی طرف جاناہے، لیکن چلو آپ بیٹھیں میں آپ کو چھوڑ آتاہوں۔ماں جی کوچھوڑ کرجب واپس گئے جس جگہ پیسے دینے تھے رستے میں دیکھاکہ بہت بڑاہجوم تھا پوچھنے پرپتہ چلاکہ یہاں بہت بڑی واردات ہوچکی ہے۔

دس بارہ نقاب ہوش ڈاکوؤں نے دو تین بسیں اور بہت سے موٹرسائیکل سوار لوگوں کولوٹ لیاتھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں سوچ میں پڑگیا کہ اللہ پاک کس کس طرح انسان کی مددکرتاہے۔ کہنے لگے کہ اس ماں جی کی میں نے مددنہیں کی بلکہ انہوں نے میری مددکی مجھے ان ڈاکوؤں سے بچانے میں۔
۔

ان کارویہ اپنے عمل کے ساتھ نہایت مشفقانہ ہے، جو بھی سکول ان کی نگرانی میں آیا آج تک کسی ہیڈٹیچر،ٹیچریاچوکیدار نے ان کی برائی نہیں کی بلکہ ہمیشہ ان کی تعریف ہی کی ہے۔ان کابات کرنے کااندازہی دوسرے لوگوں سے الگ ہے۔

6

کسی سے اگر کوئی غلطی بھی ہوجائے تو بہت پیار سےسمجھاناان کی فطرت ہے، کبھی کسی سے سختی سے پیش نہیں آتے جس کی بدولت سارا سٹاف ان کی بات فوراً مان لیتاہے۔سٹاف سے بلکل بہن بھائیوں جیسارویہ روا رکھتےہیں یہاں تک کہ چوکیدار کو بھی بھائی کہہ کرپکارتےہیں۔


ان کی فیملی میں والدین، چھوٹا بھائی پولیس آفیسراور دوسرا بھائی ریسکیو1122میں ملازم جبکہ سب سے چھوٹابھائی بی۔اے کا طالب علم ہے۔دوبھائیوں کی شادیاں کرچکےہیں دس سال گزرنے کے بعدبھی ساری فیملی اکٹھی رہ رہی ہے یہ سب اکبر صاحب کی بھائیوں سے محبت شفقت اور اچھے رویے کانتیجہ ہے۔

اللہ پاک ان کو زندگی میں مزیدکامیابیوں سے ہمکنار کرےاور ان کے گھرانے اور اسی طرح پیار، محبت اور خلوص سے اکٹھا رکھے۔آمین

..مزید پڑھیں

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں