بیکٹیریا براعظموں کے درمیان سفرکر سکتے ہیں: مطالعہ

مطالعہ سے پتا چلا ہے کہ بیکٹیریا ’پوشیدہ‘ ماحولیاتی دھول کے ذریعے براعظموں کے درمیان سفر کرسکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا خود کو دھول میں چھپا کر بہت لمبی دوری تک کا سفر طے کر سکتے ہیں۔جبکہ کچھ بیکٹیریا انسان اور جانوروں کی صحت کو متاثر کرنے کے علاوہ .آب و ہوا اور ماحولیاتی نظام کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ اسپین کے محققین کا کہنا تھا کہ ’اٹماسفیرک ایبرولائٹس بیکٹیریا‘، بیکٹیریا کوغزا اور تحفظ دراہم کرتے ہیں۔

اسپین میں سائنسدانوں نے معلوم کیا ہے. کہ بعض قسم کے بیکٹیریا ماحولیاتی خاک میں ’پوشیدہ‘رہتے ہوئے، ایک براعظم سے دوسرے براعظم کا سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایک نئی تحقیق کے مطابق، محققین، جن میں اسپین کی گرینڈا یو نیورسٹی (یو۔جی۔آر۔) کے افراد بھی شامل تھے۔ انہوں نے یہ تحقیق کی ہے کہ کچھ بیکٹیریا انسانوں اور جانوروں کو متاثر کرنے کو علاوہ ماحول اور آب و ہوا کو بھی متاثر کرنے کو اہل ہیں۔

سورج اورچاند کی حیرت انگیز معلومات۔:پڑھیں

ایٹماسفیرک ریسرچ نامے جریدے میں شائع ہونے والے اس مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ، بیکٹیریا ’دیودار‘ وایمنڈلیی ذرات کے ذریعے ایک براعظم سے دوسرے بر اعظم کا سفر طے کر سکتے ہیں۔ ان ذرات کو آئیبرولائٹس کہتے ہیں۔ اور وہ ذرات انسان سانس لینے کے دوران اپنے جسم کے اندر بھی پہنچا سکتا ہے۔

یو جی آر کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ،’یہ ایرواسول بیکٹیر یا کے لئے لانچ گاڑی کی طرح کام کرتے ہیں۔اور براعظموں میں بیماریوں کے خطرے کا بھی باعث بن سکتے ہیں‘۔ان کی وضاحت کے مطابق، آئیبرولائٹس متعدد اقسام کے معدنیات پر مشتمل وشال و ایمنڈلیی بایوئروسول ہیں۔سائز کے لحاظ سے، وہ اوسطا 100 مائکرون کے برابر ہیں۔

محققین نے مزید کہا کہ بایئروسولز کو 2008 میں دریافت کیا گیا تھا ، تاہم ، وایمنڈلیی آئبرولائٹس کی تشکیل میں شامل میکانزم ابھی تک واضح نہیں تھا۔

:ہسپانوی چڑیا گھر میں چار شیروں کا کوروناٹیسٹ مثبت آ گیا۔پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں