فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق، حکومت قومی اسمبلی میں قراردادیں پیش کرے گی۔

فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق، حکومت قومی اسمبلی میں قراردادیں پیش کرے گی۔

فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق، حکومت قومی اسمبلی میں قراردادیں پیش کرے گی۔

یورپی ملک میں گستاخانہ خاکوں کے شائع ہونے کے معاملے اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ریمارکس کی وجہ سے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں پاکستان سے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لئے قرارداد پیش کی گئی۔

اجلاس کی صدارت این۔ اے۔ اسپیکر اسد قیصر نے کی۔ جس کے دوران ایم۔ این۔ اے۔ امجد علی خان نے قرارداد پیش کی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کو ایک فرانسیسی میگزین نے شائع کیا تھا ، اور پھر فرانسیسی صدر کے اس بیان نے آزادی اظہار رائے کے نام پر لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تھی۔

قرارداد میں مزید کہا گیا۔ کہ ، “ایوان نے فرانسیسی جریدہ رسالہ چارلی ہیبڈو کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی مذمت کی ہے۔ اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے بھی خاکوں کی اشاعت پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔”

قراردادوں میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر بھی بحث کا مطالبہ کیا گیا۔ اور مذہبی امور پر احتجاج کے لئے ملک کے مختلف حصوں میں جگہیں فراہم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ سڑکوں کو روکنے کے بجائے مظاہروں کے لئے مخصوص جگہوں کی نشاندہی کی جانی چاہئے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا۔ کہ “تمام مسلم ممالک کو اس معاملے پر مشاورت کی جانی چاہئے۔ اور بالخصوص تمام یورپی ممالک اور خاص طور پر فرانس کو بھی اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کیا جانا چاہئے۔”

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے بھی اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تحریک پیش کی۔

اس کے بعد اسمبلی جمعہ ، 23 اپریل تک ملتوی کردی گئی.

..مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں