سورج اورچاند کی حیرت انگیز معلومات۔

اللہ تعالیٰ نے یہ واحد ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اند ر جاننے کا تجسس اور سوال کرنا اس کے اندر موجود ہے. اس انسان کو ا للہ تعالیٰ عقل و دانش دیکر اَشرف المخلوق بنا دیا.اللہ تعالیٰ کی دی گئی عقل کے زریعے سوال اور جاننے کے علم نے اِسکو ترقی اور اِیجادات کی منازل طے کرادیں،اوراس جاننے کے علم سے جو حکایات اس پر ظاہر ہوتیں ہیں وہ اسکے لئے بڑی عجیب وغریب ہوتی ہیں.یہی وجہ ہے کہ جب انسان چاند اور سورج پر سوال اُٹھائے تو معلومات کرنے پر حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔

سورج کے بار ے اِ بتدائی حیرت اِنگیز معلومات.مشرک اور مغرب کی کائنات میں سپر کلسٹروں میں سے ایک کلسٹر کی ذیلی گلیکسی ملکی وے اور موجود نظام شمسی کا ایک روشن ستارہ سورج جبکہ ملکی وے میں ایسے بے شمار سورج موجود ہیں . یہ گلیکسی ایک لاکھ نوری سال پر محیط ہے سورج نظام شمسی کے مرکز میں واقع ستارہ ہے۔

1

زمین، دیگر سیارے، سیارچے اور دوسرے اجسام سورج ہی کے گرد گردش کرتے ہیں۔ سورج کی حجم نظام شمسی کی کل کمیت کا تقریباً 99.86% ہے.۔ سورج کا زمین سے اَوسطََ فاصلہ تقریباً 14,95,98,000 کلومیٹر ہے اور اس کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 8 منٹ 19 سیکنڈ لگتے ہیں۔ تاہم یہ فاصلہ سال بھر یکساں نہیں رہتا۔ 3 جنوری کو یہ فاصلہ سب سے کم تقریباً 14,71,00,000 کلومیٹر اور 4 جولائی کو سب سے زیادہ تقریباً 15,21,00,000 کلومیٹر ہوتا ہے۔ دھوپ کی شکل میں سورج سے آنے والی توانائی اپنے اندر موجود خواص کے ذریعے زمین پر تمام حیات کو خوراک فراہمی کا سبب بنتی ہے اور زمین پر موسموں کی تندیلی کا باعث بنتی ہے۔

چاند سے متعلق معلومات کرنے پر جومعلومات سامنے آئیں وہ یہ تھیں کہ، چاند ہماری زمین کا ایک سیارچہ ہے۔ زمین سے کوئی دو لاکھ چالیس ہزار میل دور ہے۔ اس کا قطر 2163 میل ہے۔ چاند کے متعلق ابتدائی تحقیقات گلیلیو نے 1609ء میں کیں۔ اس نے بتایا کہ چاند ہماری زمین کی طرح ایک کرہ ہے۔ اس نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ چاند پر پہاڑ اور آتش فشاں پہاڑوں کے دہانے پرموجود ہیں۔ ان میں نہ ہوا ہے نہ پانی۔ جن کے نہ ہونے کے باعث چاند پر زندگی کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے۔ یہ بات انسان بردار جہازوں کے ذریعے ثابت ہو چکی ہے۔

2

دن کے وقت اس میں سخت گرمی ہوتی ہے اور رات سرد ہوتی ہے۔ یہ اختلاف ایک گھنٹے کے اندر واقع ہو جاتا ہے۔چاند کا دن ہمارے پندرہ دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ زمین کے گرد 29 یا 30 دن میں اپنا ایک چکر پورا کرتا ہے۔ چاند کا مدار زمین کے اردگرد بڑھ رہا ہے یعنی اوسط فاصلہ زمین سے بڑھ رہا ہے۔ قمری اور اسلامی مہینے اسی کے طلوع و غروب سے مرتب ہوتے ہیں۔

چاند ہمیں رات کو صرف تھوڑی روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ اس کی کشش سیسمندر میں مد و جزر بھی پیدا ہوتا ہے۔ سائنس دان وہاں سے لائی گئی مٹی سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چاند کی ارضیات زمین کی ارضیات کے مقابلے میں زیادہ سادہ ہے۔ نیز چاند کی پرت تقریباً ایک میل موٹی ہے۔ اور یہ ایک نایاب پتھر اناستھرو سائٹ سے مل کر بنی ہے.

..مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں