پاکستان میں گندم کا ریٹ 1800 فی من مقرر، کسان خوش، شہری پریشان۔

پاکستان میں گندم کا ریٹ 1800 فی من مقرر، کسان خوش، شہری پریشان۔

پاکستان میں گندم کا ریٹ 1800 فی من مقرر، کسان خوش، شہری پریشان۔

تحریر: میاں ارشاد حسین

پاکستان میں گندم کا ریٹ 1800 فی من مقرر کر دیا گیا تھا۔ جس سے ایک جگہ کسان ہوئے خوش، تو دوسری جانب شہری ہوئے پریشان۔ کیونکہ جنھوں نے اس مہنگائی کے دور میں گندم لینی ہے وہ کہاں سے لائے گے اتنی رقم۔

دوسری جانب کسان حضرات کا بھی کہنا ہے۔ کہ ہم جو کھاد کی بوری 2600 میں لیتے تھے۔ وہ اب ہم 5600 کی بوری لینے پر مجبور ہیں۔ کسانوں کا مزید کہنا تھا۔ کہ ہماری جب فصل تیار ہوتی ہے۔ اس وقت حکومت پاکستان فصل کا ریٹ بہت کم کر دیتی ہے۔ جس سے ہمیں فصل کے اخراجات بھی وصول نہیں ہوتے ہیں۔ ہم قرض لے کر فصلیں تیار کرتے ہیں۔ جب قرض کی ادائیگی وقت پر نہیں ہوتی تو زمیندار سود سمیت ہمارا خون نچوڑتے ہیں۔


کسانوں کا مزید کہنا تھا۔ کہ ڈیزل اور کھاد کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ ہم فصل کی کاشت سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم فاقے کر کے فصلیں تیار کرتے ہیں۔ جب ہمیں مناسب قیمت وصول نہیں ہوتی اس وقت کوئی کسان فصلوں کو آگ لگا دیتا ہے۔ کوئی خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کوئی قسمت کا رونا رو کر کم قیمت پر اپنی فصلیں بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔


کسانوں کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اس حد تک مجبور نہ کیا جائے کہ ہم اپنی فصلیں بیچنے سے انکار کر دیں۔ جہاں زراعت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھتی ہے وہاں کسان کے ساتھ ناانصافی کسی صورت قبول نہیں ہے۔ کسانوں کی حکومت پاکستان سے اپیل ہے۔ کہ انہیں سہولیات مہیا کی جائیں تاکہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں اور پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔

..مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں