بے نورسی نرگس۔

بے نورسی نرگس۔

بے نورسی نرگس۔

تحریر: محمد رفیق مری

چمن میں خود کو دیدہ ور کہنے والے حقیقت میں بے نور نرگس کی صورت نمو پا رہے ہیں۔ کسی طرف بھی جو نظر دوڑائی جائے۔ ایک اجڑے چمن کی داستانیں رقم ہیں چور چور کے نعرے لگانے والوں میں یہ صدا بلند کرنے والا۔ سارے چوروں میں یہ صدا بلند کرنے والا سارے چوروں میں اپنی پہچان کھو بیٹھا ہے۔ اور در حقیقت اسی مجمع کا حصہ ہے۔ جس میں چوروں کو بقا ھے۔ ایک آہ ھے کوئی دامن تو صاف ہو۔

وہ جن کو صادق و آمین کے سرٹیفیکیٹ تو ملے ہیں۔ لیکن اس گھمسان میں وہ بھی چور سے زیادہ قصوروار دکھاہی دیتے ہیں ہرزی شعور یہ کہتا نظر آتا ھے۔ کہ قوم کے درد ان کی آہوں میں آپ شامل ہیں۔ سب گناہوں میں منسٹر صاحب ! آپکی ناک کے نیچے ہوتا سب کچھ کہاں دلیل ہے۔ اس بصیرت کی جس کے اپ دعویدار ہیں ۔مگر بے نور نرگس کیا جانے۔امید تھی اگلی نسل تک حالات سمبل جاہیں گے۔ لیکن شاہد اس کے لیے بھی آپ نے ان کا مستقبل کسی مافیا کے سپرد کیا ہے۔

جو اایسے ایسے قوانین و ترامیم لا رہا ھے۔ کہ خدا کی پناہ۔جس طرح میرٹ کا جنازہ نکلتے ہم نے دیکھا ہے۔ کہ وہ ادارہ جو اعلی آفسران کی تعیناتی کے زمہ دار تھے۔ کیسے لٹیرے نکلے ۔انٹروویو کے نام پہ عہدیداران سب نے دیکھے۔اقربا پروری کی تند موجوں میں حقدار ڈوبتے دیکھے۔پیپر لیک ہوتے اور نہے چاند چڑھتے دیکھے۔اگر میں اس سال سرکاری میڈیکل کالجز کی نشستوں پر نظر دوڑاءوں تو وہ کمی بھی غریب کے بچوں کو کھل رہی ہے۔

2

اکیڈمیوں کے نام پہ دھندا تو سب پر آشکارا تھا ۔اس پر ظلم یہ کے امراء اور صاحب حیثیت تو ان اکیڈمیوں کے شکر گزار نظر آہے۔کہ جن کو آنے والا پیپر کسی نہ کسی طرح مل گیا۔ لیکن ایک غریب کہاں ان اکیڈمیوں میں بچوں کو پڑھاہے اور اپنے بچے کی کی بھی آنے والے امتحان میں پرچوں تک رسائی کو ممکن بناہے۔ روپے پیسے سے اپنے بچوں کو میڈیکل کالج بھیجنے والوں کی دسترس سے جو نشستیں بچ جاتی تھیں۔وہ بھی شاہد اتنی ہی ہوں گی جتنی کہ کم کر دی گئی ہیں۔

اس پر ستم یہ کہ کچھ وردی والے کالجوں کی نشستیں بڑھ گئی ہیں۔ کہ آہوں دولت کے چمتکار دکھاءو جو گلشن کا کاروبار چلے۔پرائیوٹ میڈیکل کالجز کو دیے جانے والے بیس نمبر اب شاہد رقوم کے حصول میں ممد و معاون بھی ثابت ہو ں گے۔اور قسمتوں کے فیصلے بھی لکھیں گے ۔پرائیوٹ میڈیکل کالجز اپنئ فیسوں میں یوں خود مختارہیں۔کہ ایک چیک اینڈ بیلنس کی زنجیر سے آزاد ہوہے من مانی کریں گے ۔اس ملک میں نظام تو کرپشن کا ھے لیکن لاہئ گی اصلاحات ان ممالک کی اندھی تقلید ہیں۔

جہاں کرپشن کا گراف بہت ہی نچلی سطح پر ھے ۔اس ملک میں تو اس کا راج ھے ۔جن پہ بیرونی فنڈنگ کے الزامات ہیں ۔ کبھی ان کے لیے پانامہ ھے اور کبھی ان کے لیے براڈ شیٹ ھے۔لیکن ایک غریب کے لیے تو مہنگائی ہی کی چارج شیٹ ھے۔ جو اسے روز پکڑادی جاتی ہے ۔یوں تو میرا ملک اسلامی جمہوریہ ھے۔جس کا قومی مزہب اسلام ھے۔

3

لیکن حاکموں پہ یہودیت کی مہر لگانے والے نہ جانے کہاں سے مزہب کی اسناد پیدا کر رھے ہیں۔ اور بانٹ رہے ہیں۔دین کے ان چراغوں کواپنی کرپشن چھپانے کے لئے سڑکوں چوراہوں پہ کیسے کیسے پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں ۔ وہ بھی تو ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔صبح سے شام تک چور چور کے نعرے ہیں۔اور ان نعروں میں پس رہی ہے عوام۔ بابو ہے کہ ان نعروں کی اوڑہ میں ملکی قانون کو بدلتا وہ کچولے لگا رہا ھے جو غربت کی ستاہی قوم کے حصے میں روزانہ کی بنیاد پر آرہے ہیں۔

جس ملک میں تعلیم سب سے زیادہ پھلنے پھولنے والا کاروبار ہو۔وہان جب شرح خواندگی میں کمی کی باتیں کی جاتی ہیں تو کتنی مضحکہ خیز لگتی ہیں۔وہان یہ ملک جس کے بنے اسکول مویشیوں کے باندھے جانے کی جگہ ہوں اور کلاسس قبرستان میں لگیں وہاں یہ ان قبرستان کے پڑھے بچوں پہ ان کے مستقبل کو تاریک کرنا اور سرکاری میڈیکل کالجز کی نشستیں کم کرنا کچھ یوں ہی ھے ۔کہ کوئی کہ رہا ھو کہ بھاڑ میں جاءو تم یہ نظام کل بھی صاحب کی لونڈی تھا اور آج بھی ھے۔

جہاں ایک غریب کے لیے صرف وہ زندگی ھے جس میں آگے بڑھنے کے سب رستے بند اور تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں اسے بس وہی کولہو کا بیل بن کے زندہ رہنا ھے جس کا اسکی پیدائش پہ ہی اس سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ہاں اگر ملک میں ڈاکٹر بہت زیارہ ہیں۔تواس سے پہلے ان پرائیوٹ میڈیکل کالجز کے دروازے بند کیجیے جن میں ہوتا کاروبار دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہا ہے۔

4

جب ان اداروں میں نشستوں کی کمی بھی آپ کا من چاہامنصوبہ مکمل نہ کر سکیں تو کم کر دیجیے۔سرکاری میڈیکل کالجز کی نشستیں ۔مگر یہاں تو الٹا ہی نظام ھے۔یہاں تو بارہ طیارے زمیں پر رکھ کر اس طیارے کو ہوا میں بلند کرنے کا نظام ھے۔جس کے بیرون ملک پکڑے جانے پہ جگ ہنسائی ہی بہتریں گورنس کے وہ اعزازات ہیں جو ایک پاکستانی کے ہم گلے میں لٹکاہے دنیا میں سرفرازوممتاز ہیں۔

یہ ملک تو ایک آزاد ملک کے طور پہ وجود میں آیا تھا۔لیکن اس کے چمن میں ہمیشہ بے نورنرگس کا ہی بسیرا رہا ھے اس اجڑے دیار میں نہ کوئی عبد لیب ھے۔اور نہ ہی شاہد کوئی دیدہور جوغریبوں میں مرجھائے گلوں کو نویدبہاردے سکے۔

(بے نور سی نرگس) ..مزید پڑھیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں