اصلی طاقت تعلیم پر عمل ہے!!!

اصلی طاقت تعلیم پر عمل ہے!!!

اصلی طاقت تعلیم پر عمل ہے!!!

تحریر: انیم چوہدری

بادشاہ نے ایک خواب دیکھا۔ خواب میں ایک بزرگ نے تین ایک جیسے ہیرے بادشاہ کو دیکھائے اور سوال کیا کہ یہ بتاو کہ ان تینوں میں سے کون سا ہیرا قیمتی ہے۔ بادشاہ جواب نہ دے پایا صبح بادشاہ نے اعلان کیا۔ کہ جو شخص مجھے بزرگ کے سوال کا جواب دے گا میں اسے انعام و اکرام سے نواز دوں گا۔ لیکن کوئی بھی جواب نہ دے پایا۔ کیونکہ کسی نے بھی وہ تینوں ہیرے دیکھے نہیں تھے۔

بادشاہ کو اگلی رات پھر وہی خواب آیا بزرگ نے اپنا سوال دہرایا اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ میں نے وہ ہیرے تمہاری تجوری میں رکھ دیئے ہیں۔ اب بتاؤ کہ تینوں میں سے کون سا ہیرا قیمتی ہے۔ بادشاہ کی آنکھ کھل گئی صبح ہونے والی تھی اس نے اپنی تجوری دیکھی تو واقعی وہاں تین ایک جیسے ہیرے پڑے تھے۔

صبح ہوتے ہی بادشاہ نے پورے ملک سے سمجھ دار جوہری طلب کئے اور انھیں یہ ہیرے دکھا کر وہی بزرگ والا سوال پیش کیا۔ مگر کوئی جواب نہ دے پایا۔ کیونکہ تینوں ہیرے وزن, رنگ, چمک اور حجم کے لحاظ سے بالکل ایک جیسے تھے۔ شام تک بادشاہ بہت مایوس ہو گیا۔ کیونکہ اس کو ڈر تھا کہ رات خواب میں بزرگ نے وہی سوال دھرنا ہے اور مجھے جواب کا علم نہیں ہو سکا۔

2

دربار برخاست ہونے والا تھا کہ ایک بہت دانا حکیم تشریف لے آیا اس نے کہا میں یہ بتا سکتا ہوں کہ قیمتی ہیرا کون سا ہے۔ لیکن اس کے لئے ان تینوں ہیروں کو سب سے بڑے بھگوان کے پاس لے کر جانا پڑے گا۔ بادشاہ اس شرط پر متفق ہو گیا اور حکیم صاحب بادشاہ, درباریوں اور تینوں ہیروں کے ہمراہ مندر میں تشریف لے گئے۔

حکیم نے پہلا ہیرا بھگوان کے کان میں پھینکا کیونکہ دونوں کانوں کے درمیان میں راستہ بنا ہوا تھا۔ اس لئے وہ ہیرا دوسرے کان سے باہر نکل ایا دوسرا ہیرا بھی اس طریقے سے پھینکا گیا۔ وہ بھی باہر نکل ایا لیکن تیسرا ہیرا کانوں کے درمیان دماغ میں معلق ہو گیا۔ دانا حکیم فورا بولا یہ ہیرا سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ کیونکہ یہ بھگوان کے ذہین میں سما گیا ہے۔


اس واقعہ میں دو سبق ہیں پہلا ہر بات, ہر قول, ہر راے اور فرمان بہت قیمتی ہوتے ہیں اور دوسرا ذہین میں سمانا۔ تو پھر ہم یوں کہے سکتے ہیں وہی نصیحت قیمتی ہے جو اپ کے ذہین میں سما جاے اور اپ اس پر عمل کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ کیا جانے والا آسان کام نصیحت ہے اور سب سے مشکل کام نصیحت پر عمل کرنا ہے۔

3

نصیحت آسانی سے ہر جگہ ہر وقت ہر کسی سے مفت میں مل جاتی ہے۔ لوگ جس کمال کی نصیحت دوسروں کو کرتے ہیں۔ اگر خود اس پر عمل پیرا ہوں تو دنیا کیا سے کیا بن جائے۔ ہمیں بچپن سے یہ نصیحتیں کی جاتی ہیں کہ محنت کرو محنت میں عظمت ہے دیانت داری بہت ضروری ہے۔ نماز کے بہت فائدے ہیں۔

اتنے عرصے سے ان نصیحتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم سب کو پتہ ہے محنت میں عظمت ہے لیکن اج کتنے لوگ محنتی ہیں ؟ اج کی دنیا سست اور جاہل لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ دیانت داری کے بہت فائدے ہمیں پتا ہیں بڑی معذرت کے ساتھ پہلے تو ہمیں دور دور تک کوئی ایماندار نظر نہیں آتا۔ اگر مل بھی جائے تو اج کی دنیا اسے بہ وقوف سمجھتی ہے۔

صرف علم بڑھانے اور نصیحتیں سنے سے بات نہیں بنتی. بلکہ عمل کرنے سے دنیا بدلتی ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں میں بزنس کی تعلیم وہ لوگ دے رہے ہیں. جن لوگوں نے خود کبھی بزنس نہیں کیا۔ اب اپ خود ہی بتائیں جس چیز پر وہ خود عمل نہیں کر رہے. تو اس بات میں کیا اثر ہو گا۔ شاید اسی لئے مجھ سمیت اج کے ہر نوجوان کی ترجع نوکری ہے کاروبار نہیں۔

4

شاید اسی لئے ایماندار اور سچے لوگ ناپید ہیں۔ کیوں کے ان کے رول ماڈلز میں عمل کا فقدان ہے۔ ہمارے بزرگانِ دین کے اج بھی لاکھوں پیروکار ہیں۔ کبھی اپ نے غور کیا آیسا کیوں ہے۔ تو اس کا جواب عمل ہے یہ ان کے عمل کا ہی ثمر پے اج بھی ان کی کہی ہوئ ہر بات پر عمل پیرا ہونا. اپنے لئے باعث فخر اور راہ نجات سمجھتے ہیں۔

اج ہم میں سے ہر کوئی یہ بات بڑے فخریہ انداز میں کہتا ہے. کہ علم بڑی طاقت ہے لیکن اس زمرے میں مجھے یہ فقرا غلط لگتا ہے. کیوں کے اصل فقرہ یہ ہونا چاہیے تعلیم پر عمل بڑی طاقت ہے۔ میں امید کرتا ہوں اپ لوگ بھی اس میں میرا ساتھ دیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں