دوسری شادی نہایت بڑا جرم ہے۔

دوسری شادی نہایت بڑا جرم ہے۔

دوسری شادی نہایت بڑا جرم ہے۔

تحریر: ڈاکٹر محمد کاشف

سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے ایک پوسٹ زیر گردش ہے۔ کہ جمعیت علمائے اسلام کے معاون برائے مرکزی ناظلم مالیات و رکن قومی اسمبلی، حضرت مولانا صلاح الدین ایوبی صاحب نے ایک چترالی 14 سالہ لڑکی سے شادی کی ہے۔ اور ساتھ میں یہ بھی لکھا گیا ہے۔ کہ لڑکی کو دیکھ کر نکاح کیا گیا ہے ۔ آئیں ہم آپ کو بتائیے ۔ کہ الحمدللہ اسلام کی نگاہ میں کوئی حرج نہیں ہے بالکل اسلام کے مطابق ہوا ہے ۔

اگر کم عمری کی بات ہوجائے تو حضرت عائشہ  رضی اللہ عنھا جو کہ حضرت ابوبکر صدیق رضي الله عنه‎ کی بیٹی تھیں۔ انہیں 9 سال کی عمر میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دیا گیا۔ اگر پسند کی بات ہوجائے اسلام کا حکم یہی ہے۔ کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کو پسند کرکے نکاح کیا جائے۔

اگر معاشرے کی بات ہوجائے الحمدللہ ہم قبائل لوگ ہے ہم دوسری ، تیسری اور چوتھی شادی پر فخر کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے چار شادیاں جائز فرمائی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ ہمارے ملک میں لوگ شادی کو جرم سمجھتے ہیں لیکن زنا کو راستہ ہموار کیا جاتا ہے ۔

2

ہم مسلمان ہیں ۔ ہمارے انبیاء علیہم السلام ، ہمارے صحابہ کرام ، ہمارے اولیاء اور ہمارے علماء نے دوسری شادیاں کی ہیں ۔ ہمیں ایک حلال اور اسلامی نکاح پر فخر کرنی چاہیے۔

افسوس کی بات تو یہ ہے۔ کہ ہمارے اسلامی ملک پاکستان میں کیا کیا نہیں ہوا ہے ؟؟؟ اس اسلامی جمہوری ملک میں کئی سالوں سے عورتیں سر عام سڑکوں پر ایک دن مناتے ہیں۔ اور وہ بھی اس نعرے کی بنیاد پر کہ میری جسم میری مرضی ، کیا یہ جرم نہیں ؟؟؟

ہمارے ملک کا وفاقی وزیر شیخ رشید 70 سال کی عمر میں بغیر شادی کے گزارہ کررہے ہیں۔ اور ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں۔ کہ جب تازہ دودھ مل جاتا ہے تو گائے رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا یہ جرم نہیں ؟؟؟

ہمارے ملک کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں مغرب کی طرح بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا سر عام ماحول بنا ہوا ہے۔ یعنی جوان اجنبی لڑکا اور لڑکی چند مدت کےلئے بغیر نکاح کے دوستی اور یاری بناتے ہیں۔ ایک ساتھ ہوٹل ، پکنک ، شاپنگ پر جاتے ہیں ۔ دوستی کی مدت ختم ہونے کے بعد ہر کسی کا اپنا شادی ہوتا ہے ۔ یعنی یہ شادی سے پہلے زندگی کو وہ دوستی کا نام دیتے ہیں ، کیا یہ جرم نہیں ؟؟؟

2

اگر میں اپنا قلم جاری رکھوں تو بہت سے اندھیرے صباح ہوجائیں گے۔ بہت سے اوراق خط سے بھر جائیں گے۔ لیکن یہ سنگین جرائم ختم نہیں ہوجائیں گے ۔ کہ آج ایک اسلامی ملک میں ہماری ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کے اسلامی حقوق کو جھیل یا زندان کے مترادف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ لیکن قرآن و سنت کے خلاف مغربی بے حیائی اور بے شرمی کو انکا انسانی حقوق سمجھا جارہا ہے ۔

آخر میں افسوس ان منافقین پر ہے۔ کہ علماء کی شان میں گستاخی کےلئے بہانے ڈھونڈتے ہیں ۔ ان لوگوں کو میرا یہ پیغام ہے کہ ابھی بھی وقت ہے توبہ نکالے ۔ ورنہ حشر بہت سخت ہوگا۔

..مزید پڑھیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں