ویلنٹائن ڈے تاریخ کے آئینے میں۔

ویلنٹائن ڈے تاریخ کے آئینے میں۔

ویلنٹائن ڈے تاریخ کے آئینے میں۔

تحریر: ڈاکٹر محمد کاشف

محبت کیا ہے؟

محبت ایک پاکیزہ جذبے کا نام ہے ۔ یہ ایک فطری عمل ہے جوہرانسان میں موجود ہوتا ہے. انسان میں اس جذبے کی موجودگی اصل میں معاشرے میں اتحاد واتفاق کے قائم ہونے کا سبب ہے۔ محبت ہی انسان میں باہمی تعلق پیداکرارتی ہے۔ اس سے ہی معاشرہ قائم ودائم ہے. اور اسی جذبے کے تحت انسان میں دل چسپی ونفرت کے آثار جنم لیتے ہیں ۔ انسان میں محبت وانسیت کا جذبہ کئی وجوہات کی بناء پر ہوتی ہے ۔

محبت واخوت نسبت کی بناء پر بھی ہوتی ہے دین کی بناء پربھی اور وطن بھی اسکا سبب ہوسکتا ہے ۔ صفات کی مماثلت بھی موجب محبت ہے ۔ معاملات اور لین دین کی بنا پر بھی محبت ہوجاتی ہے، سفلی جذبات، جنسی خواہشات بھی محبت پیداکردیتی ہیں لیکن سب کے اسباب، وجوہات اور خواہشات الگ ہیں ۔

ان سب محبتوں میں سے مضبوط، قابل اعتماد اور دیرپا دینی محبت ہے جوکھبی نہیں ٹوٹ سکتی اور حالات وحوادث اس میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے. محبت کی یہ قسم زمانےکے ساتھ خاص نہیں ہے ۔ تاریخ اسلام اپنے اندر ہر ادوار میں اسلام کی بناپرقائم محبت اور بھائی چارے کی لازوال مثالیں سموئے ہوئےہے. جوانسان کی اسلام کی بنا پر پیدا ہونے والی حقیقی محبتوں کی عکاسی ہیں ۔ شخصی محبت کے علاوہ اللہ کی ذات ہے محبت بھی ان گینت واقعات رکھتی ہے ۔

1

محبت ہی وجود کا راز ہے۔

یوں اگرکہاجائے تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ محبت ہی وجود کاراز ہے، کیونکہ انسان کا اپنے پروردگار سے تعلق محبت کی بنیاد پر ہی قائم ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
{ والذین اٰمنوا اشد حباللہ}(البقرہ)
اوراہل ایمان اللہ تعالیٰ سے شدید ترین محبت کرتے ہیں ۔


اور انسانوں کا اپنا گردوپیش کے ماحول سے ربط وتعلق بھی محبت کی اساس پر استوار ہے. اگر اللہ کی ذات کے حوالے سے انسان اور پروردگار کی محبت کو دیکھا جائے. تو پھر یہ کہا جاسکتا ہیکہ محبت کی حدت اللہ تعالیٰ کی عبادت کا جذبہ پیدا کرتی ہے. اسکے نتیجے میں ہم اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ۔ اسکی نافرمانی سے بچتے ہیں اور اسکا پیغام پھیلاتے ہیں ۔

اسی جذبے کے تحت ہم اپنے بھائی بندوں سے اللہ تعالیٰ کیلئے تعلق قائم کرتے ہیں. اسی بناء پر انانیت دب جاتی ہے اور ایثار نمایاں ہوجاتا ہے. جسکے نتیجے میں تواضع اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہوجاتی ہے. محبت ہی سے زندگی رواں دواں ہے کیونکہ کسی بھی کام سے محبت انسان کو مجبور کرتی ہے. کہ وہ اسے خوبی اور خلوص سے سرانجام دے اور علم سے محبت اسکو علم کے ابلاغ اور اسکی حمایت وتائید کا خوگر بناتی ہے۔

2

اسلام نےبھی محبت کے فروغطاور اس کے فیض وفضیلت کے بیان کی طرف خصوصی توجہ فرماتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی مقامات پر اپنے محبوب بندوں کا تذکرہ کیا ۔ انکے اوصاف بیان کیئے، محبت پیدا کرنے کے طریقے اور وہ کس قدر بندوں کو محبوب رکھتا ہے قرآن میں جگہ جگہ محبت کے تذکرے ہیں۔


فضیلۃ الشیخ سمیر حلبی کی تحقیق کے مطابق قرآن کریم میں مادہ حب اپنے مختلف مشتقات کی صورت میں بانوے مقامات پر مذکور ہے. اسی طرح بہت سی احادیث سے عیاں ہوتا ہی کہ مؤمنین کے دل محبت ہی سے شاد وآباد رہتے ہیں ۔ اور انکی انانیت پر محبت ہی کی مضبوط گرفت ہوتی ہے اور اپنے خالق ومالک سے اس قدر قلبی لگاؤ رکھتے ہیں کہ اسکی ہر پسند یدہ چیز سے نفرت کرتے ہیں ۔

محبت کیا ہے؟
اسکاصحیح مطلب کیا ہے؟
محبت کی کتنی قسمیں ہیں؟
اسکی کیاکیا نشانیاں ہیں آئندہ سطور میں ہم اسکے متعلق آگاہی حاصل کرتے ہیں۔

3

اللہ تعالیٰ کی محبت

انسان کو سب سے زیادہ محبت اس پروردگار سے ہونی چاہئے۔ جس نے اسکو پیدا کیا اور اس کیلئے زمین وآسمان میں اس قدرنعمتیں پیدا کیں کہ ان کا شمارہی ممکن نہیں یوں انسان کے نزدیک سب سے بڑھ کر محبت اللہ کی ہونی چاہئے ۔
اسکے تحت رسول اللہ ﷺکی محبت، فرشتوں کی محبت، اللہ ﷻکا تقریب، توبہ واستغفار، عدل، صدق اور امانت، کسرنفسی، نرم دلی، حیاء، انفاق فی سبیل اللہ، مصائب میں صبر وحوصلہ مندی اور اللہ ﷻسے ملاقات کا شوق، یہ سب اللہﷻسے محبت کی علامات ہیں ۔


اس کے بعد نبی اکرم ﷺکی محبت پھر فرشتوں سے محبت۔ اور اس کے بعد اللہ کے بندوں سے محبت بندوں سے محبت کے حوالے سے پرخلوص دوستی، محبت کا اظہار اور اسکے عملی مظاہر، سلام وآداب، مددوتعاون، پریشانی کاازالہ، خیرخواہی اور صحیح مشورہ۔ یہ سب بندوں سے محبت کے اظہار کے طریقے اور علامتیں ہیں ۔ اسکے بعد ہم اس رسواکن محبت کاتذکرہ بھی کرسکتے ہیں جوموجودہ معاشرےمیں رائج ہے۔

جیسے ویلنٹائن ڈے کے موقع پراستعمال کیاجاتاہے اور جو خصوصاً الیکڑانک میڈیا کے ذریعے جو کی ہرگھر میں اپنے پنجے گاڑ چکی ہے ۔ اسکے خطرناک نتائج ہماری مٹتی ہوئی اخلاقی اقدار کا نوحہ ثابتہ ہورہے ہیں ۔ ہاں محبت کا انداز اور انتہا ہر نفس کا الگ معاملہ ہے اسکے محبوب پر منحصر ہیکہ فریق ثانی اسکو کس قدر محبوب ہے ۔


فضیلۃ الشیخ سمیر حلبی نے اپنی کتاب “محبت کی حقیقت “میں محبت کے چار درجے بیان کیے ہیں۔

4

محبت کے درجات

❶ ۔پہلا درجہ! استحسان ہے اسکامطلب یہ ہیکہ دیکھنے والا کسی صورت کو خوب صورت سمجھے اور اس کے اخلاق وعادات کواچھا سمجھے، اسے تصادق بھی کہاجاتا ہے ۔


❷ ۔دوسرادرجہ اعجاب ہے اس سے مراد یہ ہیکہ دیکھنے والا اس خوب صورت چیز یا شخص کے قرب کا آرزومند ہو ۔


❸ ۔تیسرا درجہ کلف ہے یعنی اکثر اوقات دل میں اسکا تصور رہے، اسے غزل میں عشق کہا جاتاہے۔


❹ ۔چوتھا درجہ شغف ہے گویاکھانا پینا اور سونا تقریباً ختم ہوجائیں، بسااوقات اسکے نتیجہ میں بیماری، جنون، بلکہ موت تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے، یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے اس سے آگے کچھ نہیں ۔

مراتب محبت

❶ ۔محبت ❷ ۔ مودت ❸ ۔ مقة ❹ ۔ خلت ❺ ۔ مصافاۃ ❻ ۔مصادقة ❼ ۔ اخلاص ❽ ۔ خدانة ❾ ۔ الفت ❿ ۔ مسامرۃ ⑪ ۔ انس ⑫ ۔ خلطت ⑬ ۔ عشر
مندجہ بالا ترتیب کے مطابق محبت کرنے والے کو

❶ ۔ حبیب ❷ ۔ ودید ❸ ۔ ومیق ❹ ۔ خلیل ❺ ۔ صفی ❻ ۔ صدیق ❼ ۔ خلیص ❽ ۔ خدین ❾ ۔ الیف ❿ ۔ سمیر ⑪ ۔ أنیس ⑫ ۔ خلیط ⑬ ۔ عشیر
کہا جاتا ہے ۔

5

محبت کے انداز

محبت کے تمام انداز ایک ہی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اسکی نشانی یہ ہیکہ محبوب سے رغبت ہوتی ہے اور اسکی مخالفت بری محسوس ہوتی ہے ۔ محبت کے عوض محبوب سے بدلے کی خواہش ہوتی ہے اور وہ خواہش ہرشخص کے اغراض ومقاصد کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے ۔ اغراض ومقاصد طلب کی کمی بیشی کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں ۔ ایک محبت ایسی بھی ہوتی ہے ۔ جسکا واحد مقصد اللہ رب العزت کی رضا اور خوش نودی کا حصول ہے۔

دینی مفہوم

فقہاکا اس بات پراتفاق ہیکہ محبت عبادت کا خلاصہ اور عبودیت کا مغز ہے، اللہ تعالیٰ کا محب وہی ہوسکتا ہے جواس کے رسول اللہﷺ کی پیروی کرے اور آپ ﷺکی پیروی اوراطاعت عبودیت کے بغیر ممکن نہیں ۔


✪ امام ابن تیمہؒ نے اپنے رسالہ العبودیة میں محبت کا مفہوم تفصیل سے بیان کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ امت مسلمہ کی اللہ تعالیٰ سے محبت پہلی امتوں کے مقابلے میں بہت کامل ہے اور انکی عبودیت بھی ان کے مقابلے میں مکمل ترین ہے ۔ انکا خیال ہیکہ لفظ عبودیت انتہا درجے کی عاجزی اور محبت کو کہا جاتا ہے، کیونکہ عربی میں قلب متتیم اس دل کو کہا جاتا ہے جو محبوب کا غلام ہو متیم غلام کو اور تیم اللہ اللہ کے بندے کو کہاجاتا ہے۔

انہوں نے ایک اور جگہ فرمایا ہی کہ جس عبادت کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اس میں ذلت، یعنی عاجزی اور محبت کے معنی پائے جاتے ہیں غایت درجہ عاجزی بھی ظاہر کی جائے کیونکہ محبت کا آخری درجہ تتیم ہے اور ابتدائی درجہ علاقہ ہے اسکی وجہ یہ ہیکہ دل محبوب سے متعلق ہوجاتا ہے ۔دوسرا درجہ صبابہ ہے ۔ کیونکہ دل اس کی طرف مائل ہوجا تا ہے اسکے بعد غرام کا مرتبہ ہے، یعنی ایسی محبت جودل کے اندر جاگزیں ہوگئی ہو۔

6


✪ امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں! عبادت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی محبت ہے بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے محبت ہے ۔ اسکے علاوہ کسی سے محبت نہ ہو ۔ اگر کسی سے ہوتو محض اللہ تعالیٰ کی وجہ سے صرف اسی کی خاطر ہو۔


✪ امام غزالیؒ فرماتے ہیں! کامل محبت یہ ہیکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے محبت کی جائے کیونکہ جب تک کسی اور کی طرف توجہ رہےگی، دل کا کوئی نہ کوئی گوشہ غیراللہ کی طرف ضرور متوجہ رہے گا اور جس قدر غیراللہ میں مصروفیت ہوگی اسی قدر اللہ تعالیٰ کی محبت میں کمی ہوجائے گی۔ محبت کا جہاں بھی تذکرہ ہوگا تو مفہوم یہی بیان ہوگا جو امام غزالیؒ فرماگئے ۔ لایعنی خواہشات کی بناء پر ہمارے ہاں مروجہ عشق ومحبت حقیقی محبت سے کوئی معنی نہیں رکھتا۔


بقول امام غزالی ؒ۔
محبت میں سب سے افضل بات یہ ہیکہ انسان پاک باز رہے، گناہ کے ارتکاب سے بچے، اپنے خالق ومالک کی طرف سے ملنے والی جنت کی جزاسے محروم نہ رہے ۔ بے پناہ احسان کرنے والے پروردگار کی نافرمانی نہ کرے، یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم عنایت اور احسان ہیکہ اس نے اسے او امر و نواہی پر مشتمل اپنی ہدایت کا اہل سمجھا۔

اسکی طرف اپنے رسولﷺ بھیجے اور اپنے مقدس کلام سے اسے نوازا، نہ کہ جنسی خواہشات من کی لذتوں دل کی چاہتوں کے پیچھے اپنی زندگی وآخرت برباد کر بیٹھے اور دنیا وآخرت میں رسوائی کا بھی موجب بنے اور معاشرتی بے راہر و کا بھی شکاربنے، کہتے ہیں کسی نے ابن الجوزیؒ سے سوال کیا کہ اگر کسی شخص کو بہت خوب صورت دوشیزہ سے عشق ہوجائے تو کیا وہ اسکے منہ، آنکھوں یا رخسار کو بوسہ دے سکتا ہے؟

7


یا اس سے گلے مل سکتا ہے؟ جب کہ اسکے دل میں بد کاری وغیرہ کا تصور موجود نہ ہو؟


✪ امام صاحب ؒ نے جواب دیا! ـ تمام چیزیں ہماری شرع میں حرام ہیں کیونکہ ان کی بنیاد شہوت ہے ۔ لہذااسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بلائے عشق سے شفا کی دعا کرے تاکہ عذاب عشق سے بچ سکے، نیز صبر سے کام لے، اپنے عشق کا اظہار بھی نہ کرے ۔اسکے ساتھ ساتھ پاک باز بھی رہے ۔ اگر پاک بازی اور صبر کی حالت میں اسے موت آگئی تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادے گا اور اسی طرح کی نعمتیں اسے جنت میں عطا فرمائے گا ۔”


یہ حقیقی محبت اور اسکے مظاہر، اسکے برعکس ہم جسے محبت وعشق کا نام دیتے ہیں وہ جنسی مقاصد کی تکمیل کیلئے بےحیائی وفحاشی کے عمل مظاہر تو ہیں محبت نہیں اصلی محبت وہی ہے جس کے بارے میں صحابی رسول ﷺ نے فرمایا -! سیدنا انس بن مالکؓ نبی اکرمﷺکا ارشاد نقل فرماتے ہیں”تین صفات جب کسی شخص میں پیدا ہوجائیں تو وہ ایمان کی مٹھاس محسوس کرنے لگتا ہے ۔!

8


❶ ۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولﷺاسے ہرچیز سے زیادہ محبوب ہوجائیں ❷ ۔ دوسرے یہ کہ وہ جس سے بھی محبت کرے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کیلئے کرے ❸ ۔ تیسرا یہ کہ اسے آگ میں چھلانگ لگادینا کفر کی طرف منہ کرنے سے زیادہ پسند ہو!
{صحیح البخاری کتاب الایمان، باب حلاوۃ الایمان، حدیث! ۱۶}

..مزید پڑھیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں