کپاس کیوں لگائیں؟

کپاس کیوں لگائیں؟

کپاس کیوں لگائیں؟

رپورٹر: ملک ارشاد فیض

جنوبی پنجاب کے کاشتکار نسل در نسل کپاس کا کاشتکار ہیں۔ گزشتہ سال میرے کل کاشتہ رقبہ کی %90 کاشت کپاس پر مشتمل تھی۔ جو کہ اس سال %0 ہے۔ گزشتہ سال جنوبی پنجاب کی کپاس کی اوسط پیداوار 4 – 6 من آئی۔ جو کہ کماد کے بعد گندم اور پھر کپاس کی سلسلہ وار تباہی تھی۔ جس سے جنوبی پنجاب میں کاشتکاروں کے ہاں ہر چیز برائے فروخت تھی۔ اور %99 کاشتکار سود خوروں ، بنکوں اور کھاد بیج کے ڈیلروں کے مقروض ہو گئے۔

میری کپاس نہ لگانے کی درج ذیل وجوہات ہیں:


١ – بیج کا کم اگاؤ:
اس دفعہ پنجاب سیڈ سے لے کر ہر پرائیویٹ کمپنی کے بیج کا اگاؤ 30 سے 50 فی صد ہے۔


٢ – بیج کی زیادہ قیمت:
آدھے اگاؤ والے بیج کی قیمت بھی آدھی ہونی چاہے۔ لیکن زراعت اور کسان پر ظلم کرنے والوں نے قیمت دوگنی کر دی۔ جس میں پہل سرکاری ادارہ {پنجاب سیڈ کارپوریشن} نے کی۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق اکثر کاشتکاروں کی فصل کا اگاؤ کم ہے۔


٣ – زیادہ بارشیں :
پچھلے سال کی فصل میں تباہی کی ایک وجہ بارشیں تھیں۔ اور اس دفعہ معمول سے زیادہ بارشوں کی پشین گوئی ہے۔ انشا الله بارشیوں سے اس سال بھی جڑی بوٹیوں کا زور رہے گا۔ زیادہ نمی سے تیلہ اور گلابی سنڈی کا حملہ زیادہ ہو گا۔


٤ – ٹڈی دل:
کپاس بھی مئی میں کاشت ہوتی ہے اور ٹڈی کی آمد بھی مئی سے شروع ہوتی ہے۔ جو کہ اب تک کپاس کا کافی نقصان کر چکی ہے۔ اس کا حملہ سردی پڑنے پر کم ہو گا۔ جو یہ کپاس کا اختتامی وقت ہے۔ ان 6 ماہ میں ٹڈی کے کتنے حملے ہو سکتے ہیں اور ہم ان سے کتنی حد تک بچ پائیں گے ؟ والله عالم۔

2


٦ – قیمت :
اس دفعہ کچھ کاشتکار یہ سوچ کر بھی کپاس لگا رہے ہیں کہ کم کاشت کی وجہ سے قیمتیں زیادہ ہوں گی۔ کپاس ملک میں چاہے 40 لاکھ بیل ہو جائے۔ اس کی قیمت عالمی منڈی کے حساب سے ہو گی۔ کم آمد پر ٹیکسٹائل مافیا غیر ملکی سودے کر کے ملکی منڈی میں مندی پھیلا دیتا ہے۔ اس دفعہ سندھ میں سودے 3500 میں ہو رہے ہیں۔ جو کہ سابقہ سال 4500 سے شروع ہوۓ تھے۔


٧- لیبر کے مسائل :
کپاس کاشت سے برداشت تک لیبر کا نام ہے۔ پچھلی فصل جب بارشوں سے متاثر ہوئی اور مارکیٹ میں 2500 روپے فروخت ہوئی تو لیبر نے اس کی چنائی 500 سے 600 روپے من میں کی۔ کہا یہ گیا کہ ہماری دیہاڑی نہیں بنتی۔ ارے ظالمو کاشتکار کی کون سی دیہاڑی بنی ہے۔ کاشتکار لیبر کو منتیں ترلے کرتا رہا چنائی کے لئے۔ وہ اس مردہ گھوڑے کو دفنانے کے لیے ذلیل و رسوا ہوا۔


٨ – زہروں کی قیمتوں میں اضافہ :
ڈیلر حضرات کے بقول اس دفعہ زہروں کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اور یہ بھی کہ نقد ملیں گی۔ کوئی ادھار نہیں۔ ان 6 ماہ میں مقروض کاشتکار کے پاس کون سے لاٹری نکال یی ہے کہ وہ پچھلے قرض بھی ادا کرے۔ اور اس دفعہ مہنگی زہریں نقد قیمت پر لے۔ بشرطیہکہ اپنی زمین بیچے اور پھر جوا لگائے۔


اگر درج بالا نقاط کے باوجود اگر کاشتکار 20 سے 25 من پیداوار لینے میں کامیاب ہو بھی گیا تو 70،000 سے 80،000 کی آمد میں سے 20،000 سے 25،000 کی بچت پر اتنا ذلت اور خجالت وارے میں نہیں آتی۔ آج کل اکثر کھیت ویران ہیں . کچھ مونگ ، تل تو کچھ زیادہ پڑھے لکھے اور تجربہ کر کاشتکار چاول اور مکئی کی طرف جا رہے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں