ہم وہ قوم ہیں جو حقیقت و عمل کی بجائے تقریر و باتوں پر خوش و مطمین ہوتے ہیں

ہم وہ قوم ہیں جو حقیقت و عمل کی بجائے تقریر و باتوں پر خوش و مطمین ہوتے ہیں

کالم: دوتصویریں
( نویدانور ایم۔اے، بی۔ایڈ)
ہم وہ قوم ہیں جو حقیقت و عمل کی بجائے تقریر و باتوں پر خوش و مطمین ہوتے ہیں

تصویر نمبر 1:
اِس تصویر میں ایک سیلکڈ موٹیویشنل اسپیکر حماد صافی ہیں۔ حماد صافی کے کریڈٹ میں سوائے رٹی رٹائی تقریر کرنے کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ موصوف سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے اور کچھ خاص اتالیق ملے جنہوں نے ان سے ان کا بچپن چھین کر انہیں ایک خاص لائن پر لگا دیا۔ حماد صافی کو ریاست کی مکمل اسپورٹ حاصل ہے اور اسے میڈیا چینلز اور جامعات میں بلایا جاتا ہےان کے کریڈٹ پر انسانیت یا پاکستان کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔

تصویر نمبر 2:
اِس تصویر میں موجود بچہ کم سن پاکستانی لیڈر اقبال مسیح ہے۔ یہ بچہ اپنے بچپن کے اوائل میں ہی قالین بننے والی ایک فیکٹری میں جبری مزدوری کیلئے فروخت ہو گیا۔ریاست نے اس کی بحالی کیلئے کچھ نہیں کیا۔

یہ بچہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تو ریاست کی پولیس نے اسے گرفتار کر کہ دوبارہ قلین ملز مالک سیٹھ حاجی خان کو دے دیا۔ اپنی ذاتی کوششوں سے یہ بچہ دوبارہ بھاگنے میں کامیاب ہوا اور کسی طرح بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ کا حصہ بن گیا۔

محض دس سال کی عمر میں اس بچے نے مُلک بھر سے کئی ہزار سے زائد پاکستانی بچوں کو جبری مشقت سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔اور صرف لاہور شہر میں 3 ہزار سے زائد بچوں کو آزادی دلوائی۔ اس بچے کے نام پر اقوام متحدہ کے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے ایک سالانہ ایوارڈ کا اجرا کیا جسے اقبال مسیح ایوارڈ کہتے ہیں۔

بچے کی بغاوت و جدو جہد آزادی سے اتنا خطرہ محسوس کیا گیا کہ محض 12 سال کی عمر میں اسے دن دیہاڑے لاہور بیچ روڈ پر کئی سو گولیوں سے بھون کے رکھ دیا گیا اور اِسکی آواز و نظریہ دبا دیا گیا۔نہ اسے قومی ہیرو قرار دیا گیا، نا آج اسے کوئی جانتا ہے، نہ اس کو کسی کالج /یونیورسٹی میں لیکچر کیلئے بلایا گیا اور نہ ہی اسے تحفظ دیا گیا۔

حاصل کلام:
ہیرو باتیں کرنے سے نہیں بنا جاتا بلکہ کام سے بنا جاتا ہے۔ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم تقریروں کے مداح ہیں۔یہ ساری بات سونے کا چمچ لیکر پیدا ہونے اور غریب پیدا ہونے کی ہے۔ اس ملک کے گلیوں کوچوں میں کئی معصوم گل خان، پلوشہ بیبیاں، عارفہ کریم اور اقبال مسیح گھوم رہے ہیں جو واقعی قوم کا سرمایہ افتخار ہیں لیکن ہم صرف سرمایہ کی طاقت اور سیاسی، مذہبی چورن کی بنا پر ہر اسکرین پر نظر آنے والوں کو ہیرو سمجھتے ہیں۔ہمارا المیہ ہیکہ کوئی بھی سیاسی و مذہبی باتیں کرنے والا مشہور ہو جائے تو اسے اسلام و پاکستان کا سپہ سالار سمجھ بیٹھتے بلکہ ولی اللہ سمجھنے لگتے اور جو اسے ایک عام سمجھے اسے ہم غدار، گستاخ، کافر یا پھر مغرب کا ایجنٹ سمجھنے لگتے ہیں۔

اِس قوم کے عقل و شعور کا اندازہ لگائیں زرعی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی تقریب میں 12 سال کا لونڈا موٹی ویشنل سپیکر حماد صافی اس قوم کو موٹی ویٹ کر رہا ہے، یہ عقل کل ہے اس قوم کی۔

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں