اگلے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیا اضافہ تجویز کیا گیا ہے؟

اگلے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیا اضافہ تجویز کیا گیا ہے؟

اگلے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیا اضافہ تجویز کیا گیا ہے؟

اسلام آباد – مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت وفاقی حکومت نے رواں سال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نقدی کی تنگی کا شکار ملک کو قرضوں کی کمی اور زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر کی وجہ سے سخت نقصان پہنچا ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ وزارت خزانہ نے ایک سمری بھیجی ہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ تجویز نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

گزشتہ ماہ نئی حکومت نے وزیر اعظم شہباز شریف کے اعلان کے باوجود تنخواہوں میں اضافے پر یو ٹرن لیا۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا کہ حکومت تنخواہوں میں اضافہ نہیں کر رہی کیونکہ تنخواہوں میں چند ماہ قبل اضافہ کیا گیا تھا۔ مفتاح نے اس وقت کہا تھا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے پر غور کرے گی۔

شریف نے بطور وزیراعظم قوم سے اپنے پہلے خطاب میں تنخواہوں، پنشن اور مزدوروں کی کم از کم اجرت میں اضافے کا اعلان کیا۔

وفاقی حکومت 10 جون کو پاکستان کے لیے 2022-2023 کا بجٹ پیش کرے گی۔ تجارتی خسارہ تقریباً 40 بلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا اور ترسیلات زر کی آمد سے ادائیگیوں کا خسارہ کم ہو گیا ہے۔

قومی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں 200 روپے کے نشان کو عبور کرتے ہوئے تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں