مسجد نبوی واقعہ میں شیخ رشید کے بھانجے کی ضمانت منظور

مسجد نبوی واقعہ میں شیخ رشید کے بھانجے کی ضمانت منظور

مسجد نبوی واقعہ میں شیخ رشید کے بھانجے کی ضمانت منظور

راولپنڈی – پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے بھتیجے راشد شفیق کو مسجد نبوی (ص) کے واقعے پر درج مقدمے میں ضمانت پر ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کر دیا گیا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ راشد کو فتح جنگ عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے پر رہا کیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے راشد شفیق کی ضمانت منظور کی، اس سے قبل عدالت نے ان کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

راشد کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ سعودی عرب میں پیش آیا، مقدمہ پاکستان میں درج ہوا، جسے انہوں نے سیاسی انتقام قرار دیا۔ قانونی ٹیم نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم اور وزیر اطلاعات اس مقدمے میں مدعی نہیں ہیں۔

قبل ازیں عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کردی۔

ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے باہر پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں، دوستوں اور وکلاء نے راشد شفیق کا استقبال کیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے، پی ٹی آئی کے ایم این اے نے کہا کہ انہیں اٹک کے مختلف تھانوں میں حراست میں لیا گیا اور ‘دہشت گردی کے ملزم’ کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھی گئی۔

راشد نے اپنی رہائی کے بعد اپنے قائد عمران خان اور شیخ رشید کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم کیا۔

یکم مئی کو، ایف آئی اے نے پی ٹی آئی کے قانون سازوں کو مسجد نبوی میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کے خلاف نعرے لگانے پر گرفتار کیا۔ اتوار کو نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کے فوراً بعد انہیں سرکاری اہلکاروں نے حراست میں لے لیا، جو شہری لباس میں ملبوس تھے۔

راشد شفیق نے اس سے قبل ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا تھا جب عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عربیہ میں اور انہوں مسجدی نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش آنے والے افسوسناک واقع کا ذکر کیا تھا۔

اس سے پہلے سابق وزیراعظم عمران خان، شیخ رشید اور دیگر پی ٹی آئی کے رہنماؤں سمیت 150 افراد کے خلاف مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہیں میں ملوث ٹھراتے ہوئے فیصل آباد میں ان کے خلاف ایک مقدم درج کیا گیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں