پاکستان آٹے کے بحران سے نمٹنے کے لیے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرے گا۔

پاکستان آٹے کے بحران سے نمٹنے کے لیے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرے گا۔

پاکستان آٹے کے بحران سے نمٹنے کے لیے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرے گا۔

اسلام آباد – وفاقی کابینہ نے منگل کو 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کی منظوری دے دی، آٹے کی سپلائی کی کمی کے باعث نئی حکومت کے لیے بحران پیدا ہو گیا ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم نے گندم کی درآمد کو روکنے کے لیے مراعات یافتہ زرعی پالیسی متعارف کرانے کا بھی حکم دیا۔

شریف حکومت نے رمضان پیکج کے تحت آٹے اور چینی کے مقررہ نرخوں کو جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس سے قبل 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی تھی۔ گندم کی درآمد پر ٹرانسپورٹ اور ہینڈلنگ چارجز کو چھوڑ کر تقریباً 1.2 بلین ڈالر لاگت آنے کی توقع ہے۔

اس اقدام اٹھانے کی وجہ ملک میں موسم کا ایک دم سے بدل جانے کی وجہ سے ملک میں گندم کی پیداوار میں 9 فیصد کمی واقع ہوئی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کو گزشتہ ہفتے بتایا گیا تھا کہ جنوبی ایشیائی ملک گندم کے ایک اور بحران کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ اس سال پیداوار میں ہدف سے تقریباً 30 لاکھ ٹن کمی کا تخمینہ ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں گندم کی پیداوار 26.173 ملین ٹن ہوئی جبکہ اس کا ہدف 28.89 ملین ٹن تھا۔ جبکہ ملک میں گندم 30.79 ملین ٹن کی ضرورت ہوگی۔ جبکہ بتایا گیا ہے کہ گندم کی پیداوری ہدف پورا نہ ہونے کی وجہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، گرمیوں کا ایک دم سے بڑھ جانا اور دیگر عوامل کو اس ذمیدار بتایا گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں