صدر علوی نے گورنر پنجاب چیمہ کو ہٹانے سے متعلق وزیراعظم کی ایڈوائزری کو رد کر دیا۔

صدر علوی نے گورنر پنجاب چیمہ کو ہٹانے سے متعلق وزیراعظم کی ایڈوائزری کو رد کر دیا۔

صدر علوی نے گورنر پنجاب چیمہ کو ہٹانے سے متعلق وزیراعظم کی ایڈوائزری کو رد کر دیا۔

اسلام آباد – صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانے کا مشورہ مسترد کر دیا جنہوں نے حمزہ شہباز اور نو تشکیل شدہ صوبائی کابینہ کے ارکان سے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔

صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ گورنر، جو پی ٹی آئی کے وفادار ہیں، کو ہٹایا نہیں جا سکتا کیونکہ ان پر نہ تو بدانتظامی کا کوئی الزام تھا اور نہ ہی کسی عدالت کی طرف سے سزا دی گئی تھی اور نہ ہی ان کی طرف سے آئین پاکستان کی مخالفت کرنے والے کسی بھی عمل کا۔

صدر پاکستان کو آرٹیکل 101 کی شق 3 کے تحت حق حاصل ہے کہ جب تک صدر گورنر کو تبدیل نہیں کرتا، اس وقت تک گورنر اپنے عہدے پر برقرار رہے گا۔

علوی نے مزید کہا کہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے یہ ان کا فرض ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کریں۔

جب پنجاب کے سابق گورنر چودری سرور کے استعفا دینے کے بعد ان کی جگہ پر عمر چیمہ کو پنجاب کا نیا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ چودری سرور نے عثمان بوزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد خود کو سیاسی معاملات سے دور کر دیا تھا اور اس کے بعد ان کو گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئےبتایا تھا کہ صدر کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ وزیراعظم کے مشورے کو قبول کریں اور وزیراؑظم کے مشورے کو رد کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے ۔

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں