حمزہ شہباز کی حلف برداری ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔

حمزہ شہباز کی حلف برداری ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔

حمزہ شہباز کی حلف برداری ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔

لاہور: پنجاب کے نومنتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی تقریب حلف برداری ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ گزشتہ ہفتے افراتفری کے درمیان 197 ووٹ لے کر پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔ ہفتہ کو مسلم لیگ ن کے رہنما کی حلف برداری کی تقریب دوسری بار ملتوی کر دی گئی کیونکہ تمام تر انتظامات کے باوجود چیئرمین سینیٹ صوبائی دارالحکومت پہنچنے میں ناکام رہے۔

حلف کے بحران کے درمیان پنجاب گورنر ہاؤس کے حکام نے تقریب حلف برداری کی صحیح تاریخ بتانے سے انکار کردیا۔ انتظامیہ کو ایوان صدر سے حلف برداری کے تحریری احکامات موصول نہیں ہوئے اور تاحال انتظار کیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں حلف برداری کی تقریب ہفتہ کی شام چار بجے مقرر تھی جسے بعد میں بدل کر رات آٹھ بجے کر دیا گیا۔

دریں اثناء حکمراں مسلم لیگ ن کی قانونی ٹیم نے پیر کو توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ معاملے پر عدالتی احکامات کے باوجود تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے صدر عارف علوی کو حکم دیا تھا کہ وہ نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے لیے ایک نمائندہ نامزد کریں۔ عدالت نے قرار دیا کہ گورنر حلف لینے سے انکار نہیں کر سکتے۔

گورنر پنجاب سرفراز چیمہ کی جانب سے ‘قانونی وجوہات’ بتاتے ہوئے حمزہ شہباز سے حلف لینے سے انکار کے بعد مسلم لیگ (ن) نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے رہنما نے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کہا کہ حمزہ کو قانونی طریقے سے وزیراعلیٰ نہیں منتخب کیا گیا۔

تازہ ترین پیش رفت کے مطابق اب پنجاب حکومت نے گیسٹرو کے علاج کے لیے لاہور کے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔ سروسز ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے چیمہ کا معائنہ کیا اور رپورٹس کے مطابق ان کے کچھ طبی ٹیسٹ کرائے گئے۔

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں