سعودی عرب اور ایران علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

سعودی عرب اور ایران علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

سعودی عرب اور ایران علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

بغداد – سعودی عرب اور ایران، دو مسلم ممالک جو مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ کے لیے آمنے سامنے ہیں، نے عراقی دارالحکومت میں بات چیت جاری رکھی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ تہران اور ریاض نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کی امید میں بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا لیکن کسی بڑی پیش رفت کے امکانات کو مسترد کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق دو طاقتور پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے اہم چیلنجز پر مثبت ماحول میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

حالیہ مذاکرات دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں کیونکہ مارچ میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات معطل ہو گئے تھے جبکہ اس وقت کسی خاص وجہ کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) کے اہلکار اور سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ خالد بن علی الحمیدان نے دونوں مسلم ریاستوں کے درمیان تعلقات کو بحال کرنے کے لیے مذاکرات میں شمولیت اختیار کی۔

عمان کو عراق کے علاوہ تازہ ترین سیشن کے انعقاد میں بھی تعاون کرنے کی اطلاع دی گئی ہے، جس نے براہ راست مذاکرات کے تمام دور کی میزبانی کی ہے۔

اب تک، جدہ میں قائم اسلامی تعاون تنظیم (OIC) میں ایران کے نمائندہ دفتر کا دوبارہ کھلنا دونوں کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کا واحد نتیجہ ہے۔

2016 میں دونوں ریاستوں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب مملکت میں ایک شیعہ عالم کو پھانسی دیے جانے کے بعد ایرانی مشتعل افراد نے ایرانی دارالحکومت میں سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا جب کہ ان کے درمیان عشروں پرانی دشمنی حالیہ دنوں میں مذہبی اختلافات کی وجہ سے مزید بڑھ گئی ہے۔

مہلک یمن جنگ میں تہران اور ریاض بھی ایک دوسرے کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ایران نے حوثی ملیشیا کی حمایت کی تھی جب کہ سعودی قیادت میں اتحاد یمنی افواج کے ساتھ لڑ رہا ہے۔ عراق میں 2003 کے امریکی فوجی آپریشن نے بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو جنم دیا۔

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں