تحریر۔۔۔علی ابن طالب سے خلیفہ چہارم تک

تحریر۔۔۔علی ابن طالب سے خلیفہ چہارم تک

تحریر۔۔۔علی ابن طالب سے خلیفہ چہارم تک

جھنگ۔(محمد شہزاد خان)

کالم نگار۔ڈاکٹر ہما علی

ایک مرد کی زندگی میں کردار سازی کرنے کے لیئےدو عورتیں بہت اہم ہوتی ہیں۔
ایک اُس کی ماں اور دوسری اُس کی شریکِ حیات۔


ماں وہ ہستی ہے جو مٹی کے کچے برتن کو کندن بنانے کی کوزہ گری سے واقف ہوتی ہے اُس مٹی کو نئے وجود میں ڈھالتے ڈھالتے اپنی زندگی کی شام کر لیتی ہے۔اور بیوی اس تخلیق پر اپنی مرضی کے نقش و نگار بھر کر ربِ کریم کے اِس فن پارے کو دوام بخشتی ہے۔


سو ایک ماں اور پھر شریکِ حیات دونوں ایک مرد کی زندگی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں
جب ما ں فاطمہ بنت اسد ہو تو تیرہ/چودہ سال کا بچہ کمسنی میں چالیس لوگوں بشمول باپ(ابو طالب)، چچا(حمزہ، عباس)کی موجودگی کے، کوہ صفا پر کھڑے ہو کر یہ کہنے سے نہیں گبھراتا کہ “لوگو مجھے آشوب چشم ہے، گو میری ٹانگیں پتلی ہیں اور میں سب سے نوعمر ہوں، تا ہم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دوں گا‘‘، قریش کے لیے یہ ایک حیرت انگیز منظر تھا کہ دو اشخاص (بشمول تیرہ سال کا نوجوان) دنیا کی قسمت کا فیصلہ کررہے ہیں۔


حضرت فاطمہ بنت اسد حضرت علی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ تھیں۔ اور اسد، قبیلہ بنت عامر کے بطن سے حضرت ہاشم کے فرزند تھے۔ اس لحاظ سے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی اور ابو طالب کے حرم میں ہونے کی بناء پر چچی تھیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابو طالب کی کفالت میں آئے تو انہی کی آغوش مادر، پیکر رشد و ہدایت اور مینارہ نور کی ابتدائی درسگاہ بنی اور اس جاں فشانی سے در یتیم عبداللہ کو پالا کہ والدہ ماجدہ کی کمی کا احساس تک نہ ہونے دیا۔

اوررسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی شفقت و محبت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ ابو طالب کے بعد فاطمہ بنت اسد سے زیادہ کوئی مجھ پر شفیق نہ تھا۔ جب دارِ فانی سے آپ نے کوچ فرمایا تو حضرت علی نے نم آنکھوں سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آبدیدہ ہو کر فرمایا:
خدا کی قسم ! وہ میری بھی ماں تھیں اور پھر اپنی چادر مبارک اتار کر دی کہ انہیں کفن کے طور پر پہنائی جائے۔”


لحد میں دفنانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خود قبر میں اترے، اور کچھ دیر کے لئے اس میں لیٹ گئے۔ دائیں بائیں کروٹ لی اور باہر آکر روتے ہوئے فرمایا کہ
والدہ !اللہ کریم آپ کو جزائےخیر دے بے شک آپ بہترین ماں تھیں۔
بلاشبہ ایسی ماں ہی ایک جری حیدرِکرار جیسا علم و فضل کا گوہرِنیاب پروان چڑھا سکتی ہے۔
اور جب شادی کی بات آتی ہے تو فاطمہ بنت محمد کو بحکمِ تعالیٰ چُنا جاتا ہے جو صبر و استقامت، حیا، پاک دامنی کا ایسا قوی استعارہ ہیں جو رہتی دُنیا تک اپنی مثال آپ ہے۔

شادی کے بعد کے نو سال اپنے شوہر بزرگوار علی مرتضٰی (ع) کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت، اجتماعی خدمات ،امور خانہ داری اور بچوں کی دیکھ بھال میں گذارے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ شادی کے بعد میدان جنگ یا تبلیغ میں گذارا اور آپ کی غیر موجودگی میں حضرت فاطمہ (علیہا السلام) گھر کی ذمہ دایوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہتیں،

آپ اس کام کو اس باحسن طریقے سے سر انجام دیتی تھیں کہ آپ کے مرد مجاہد، شوہر گرامی جہاد کی ذمہ داریوں کو نڈر و جرات مند سپاہی کی طرح ادا کرتے۔الغرض کہ اماموں کی پرورش کرنے والی جلیل القدر والدہ ماجدہ نے شوہرِنامدار علی ابنِ طالب کو مسلمانوں کا خلیفہِ چہارم اور علم و عمل کی مجسم تصویر بنا دیا۔یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا” میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں”۔


آج تک علم و حکمت اورولایت کے خزانے آپ کے درِاقدس کے طفیل ہم جیسے گناہ گزاروں تک پہنچتے ہیں اور تا قیامت یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔(انشااللہ بفضلِ تعالی)

مزید پرھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں