کچھ الفاظ دل میں اُتر جاتے ہیں اور کچھ الفاظ دل سے اُتار دیتے ہیں

کچھ الفاظ دل میں اُتر جاتے ہیں اور کچھ الفاظ دل سے اُتار دیتے ہیں

کچھ الفاظ دل میں اُتر جاتے ہیں اور کچھ الفاظ دل سے اُتار دیتے ہیں

کالم بنام-روح آرزو
موضوع۔دو بول(دو باتیں)

کالم نگار۔محمد قاسم وحید
ایک منفرد سا کالم قارئین کی نظروں کے سامنے رکھوں گا الفاظ کی ترتیب و انداز سے آپ نے شاید محسوس کر لیا ہو کہ میں کس متعلق کون سے موضوع پر بات کرنا چاہ رہا ہوں میں آج منہ سے نکلے ہوئے ان چند بولوں پر اپنے الفاظ استعمال کروں گا جن پر ہمارا معاشرہ کھڑا ہے جن کی بدولت ہم ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں

یہ وہ الفاظ ہیں جو نکلتے تو ہمارے منہ سے ہیں پر اثر کسی اور پر کرتے ہیں کبھی کسی کے سیدھے دل و دماغ پر زہریلے تیر کی مانند پیوست ہو جاتے ہیں تو کبھی وہ سننے والے کے دل و دماغ کو سہارا دیتے ہیں کبھی یہی دو بول سماعتوں کے ذریعے دل کو حوصلہ دیتے ہیں تو کبھی یہی باتیں حوصلہ توڑنے کا سبب بنتی ہیں اگر نظریات کے آئینے میں معاشرے کو پرکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان الفاظ انہیں منہ سے نکلے ہوئے چند بولوں کی وجہ سے معاشرے میں فتنہ و فساد اور دشمنیاں جنم لیتی ہیں

اگر ان الفاظ کو زہنی توازن برقرار رکھتے ہوئے بولا جائے تو دشمنیاں اور ناراضگیاں ختم بھی کروا سکتی ہیں کسی بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی ناراضگی یا دشمنی کے پیچھے زبان کا لازما کردار ہوتا ہے ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ پہلے تولو پھر بولو,اگر تول نہیں سکتے تو پھر کم بولو جتنی زیادہ کوشش ہو کے بات کرتے وقت ایسے الفاظ کا چناؤ کیا جائے جو سننے والے کے دل پر گراں نہ گزرے بلکہ اسے سہارا دے کیونکہ کسی ہتھیار سے لگے زخم تو ٹھیک ہو سکتے ہیں پر الفاظ کے زخم بہت زہریلے ہوتے ہیں

یہ انسان کے مرنے کے ساتھ ہی ختم ہو تو ہو زندگی میں ان زخموں نے ختم نہیں ہونا ہوتا آپ کے لہجے میں ایسی سچائی کی مہک ہوں کہ سننے والے کے دل و دماغ میں اس کی خوشبو پہنچے


آہستہ بات کر کے ہوا تیز ہے بہت
ایسا نہ ہو کہ سارا نگر بولنے پڑے


الفاظ کی ترتیب سے ہی انسان کے معیار کی پہچان ہوتی ہے اس کے بات کرنے کے انداز سے ہی اس کے معیار کا پتہ چلتا ہے کسی پاگل یا مجنوں انسان کے منہ پر نہیں لکھا ہوتا کہ یہ انسان پاگل ہے اور نہ کسی بااثر شخص کے منہ پر تحریر ہوتا ہے کہ یہ انسان بااثر ہے سب سے پہلے تو ان کی ظاہری حالت اور سب سے اہم جب وہ بات کرتے ہیں تو ہی سننے والے کو پتہ چلتا ہے کہ واقعی یہ انسان کوئ پڑھا لکھا ہے یا ویسے ہی واویلا کر رہا ہے کوشش ہو اگر سامنے کوئی جانی دشمن بھی ہو تو آپ کے بات کرنے کا انداز ایسا ہو کہ اس جانی دشمن کو بھی اپنا سر تسلیم خم کرنا پڑے جہاں ضرورت ہو وہاں تلخ بات کریں بلکہ لازما” کریں پر جہاں ضرورت نہیں آپ اپنا لہجہ اتنا میٹھا رکھیں کہ آپ کے الفاظ صرف کانوں تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ لوگوں کے دلوں پر راج کریں آپ نے مشاہدہ کیا کہ ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو پڑھے لکھے تو بہت ہیں مگر جب وہ بات کر رہے ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے

جیسے ابھی تیر کمان سے نکل کر اگلے کے سر پر جا لگے گا یہ لوگ بات کرنے کےاس فن سے دور دور تک لاتعلق ہوتے ہیں جو کسی دوسرے انسان کو اپنی طرف مائل کر سکے الفاظ میں نرمی جتنی زیادہ ہواس کی تاثیر اتنی نرم اور میٹھی ہو گی اور اتنی جلدی سننے والے کے دل پر اثر کرے گی انسان جتنا میٹھا لب و لہجہ اپنے لئے پسند کرتا ہے دوسروں کے لئے بھی وہی پسند کرے جو الفاظ اپنے کانوں کو سکون دیں وہی دوسروں کے لئے بھی استعمال کرے اگر آپ نرم لہجے میں بات کرتے ہیں تو سننے والا جتنا سنگدل ہو اس کا دل بھی پگھل کر موم ہو جاتا ہے اور اسی طرح وہ بھی آپ کو جواب دیتا ہے

ایک گیند کو آپ جس طرز کے ساتھ دیوار سے ماریں گے ہمیشہ وہ اسی سپیڈ کے ساتھ واپس آئے گی اگر اسی کلیہ کو آپ استعمال کریں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جس طرز سے آپ اپنے الفاظ دوسروں کے حوالہ کریں گیں اسی طرز سے اسی لہجہ میں آپ کی امانت آپ تک پہنچے گی اگر منہ پر نہیں تو پیچھے ضرور آپ جس طرح بات کریں گیں ویسے ہی آپ کو جواب بھی ملے گا کوشش ہو کہ اپنے بولنے کی حس کو اپنی زبان کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر بولا جائے تاکہ سننے والے کے احساسات و جذبات سے فتنہ و فساد جنم نہ لیں اگر آپ کو کوئی کچھ کہہ بھی دیں تو در گزر فرما لیں کہ اللہ رب العزت کو صبر کرنے والے بہت پسند ہیں

ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے کئی رویوں کی خاک چھانی

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں