تحریر۔۔۔ضمیروں کے سوداگر

تحریر۔۔۔ضمیروں کے سوداگر

تحریر۔۔۔ضمیروں کے سوداگر

کالم نگار۔۔۔اظہارالحق خان

پاکستان کی سیاسی تاریخ لوٹا کریسی ہارس ٹریڈنگ ضمیروں کی سوداگری ووٹ کی خرید وفروخت سے بھری پڑی ہے جمہوری نظام کو جتنی مرضی خوش نما نعروں میں پرو دیں یہ اپنی اصل میں ذاتی مفاد کو تحفظ دینے والا نظام ہے اس نظام سے مستفید ہونے والوں کو قومی مفاد عامہ سے کوئ غرض نہیں ہوتی اس نظام میں وہی سرائیوو کرسکتا ہے جو وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی اہلیت رکھتا ہے

کامیابی کی صورت میں اپنے سرمایہ سے دوگنا وصول کرنے کی امید ہی انہیں سیاست میں متحرک رکھتی ہے ۔۔ جتنا پیسہ یہ الیکشن میں لگاتے ہیں اگر اس کا دس فیصد حصہ فلاحی منصوبوں پر خرچ کرتے تو یقیناً ان کے حلقوں کی صورت حال یکسر مختلف ہوتی ۔ انہیں عوامی مفادات میں لگائے گئے منصوبوں میں بھی صرف اس منصوبے میں دلچسپی ہوتی ہے جس سے انہیں خاطر خواہ حصہ ملتا ہو ۔


ووٹ کی حرمت ، ضمیر کی آواز ، ووٹ کی شرعی حیثیت ، قومی ذمہ داری، اخلاقی فریضہ، احساس زمہ داری ، گواہی اور امانت جیسے پرفریب دل لبھانے والے اقوال صرف اور صرف عام ووٹر کو مطمئن کرنے کی خاطر الیکشن سے قبل متعارف کرائے جاتے ہیں تاکہ عوام کا اس نظام کے ساتھ اعتماد بنا رہے اور عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ جمہوریت میں ایک عام شخص کی رائے کتنی اہمیت رکھتی ہے جب کہ حقیقت اس سے ہزار درجے برعکس ہے

عوامی مینڈیٹ کو نوٹوں میں تولا جاتا ہے ضمیروں کی منڈی لگتی ہے وفاداریاں بدلی جاتی ہیں اور یہ عمل انہونا یا انوکھا نہیں ہے بلکہ تواتر کے ساتھ ہر بار ہی مفاد پرست طبقہ دہراتا ہے سینٹ الیکشن میں تو انسانی منڈی نقطہِ عروج تک پہنچ جاتی ہے اور اعلانیہ ہوتا ہے کچھ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔۔
حالیہ سیاسی کشمش میں بھی وفاداریاں بدلنے والوں کو انہیں الزامات کا سامنا ہے اور بڑی حد تک سچائی پر مبنی الزامات ہیں لیکن معاملہ یہ ہے کہ اخر اس کا حل کیا ہے ؟ کیا یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا ؟

عام ووٹر کو تو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ووٹ کی عزت ہے رائے دینا امانت اور شرعی حق ہے لیکن اسی ووٹ سے منتخب ہونے والے ممبران پر اس کا اثر کیوں نہیں ہوتا وہ اخلاقی گراوٹ کا شکار کیوں ہیں ؟ وہ کیوں چند ظاہری مفادات کےلئے سرعام اعلانیہ بک جاتے ہیں ؟ دراصل وہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اس نظام میں بقا اسی شخص کو حاصل ہے جس کے پاس سرمایہ ہے دولت ہے خریدنے کی صلاحیت ہے ۔ الیکشن کمپئین پر کروڑوں خرچ ہوتے ہیں جیت کی صورت دوگنا وصول بھی کرنے ہوتے ہیں لہٰذا منافع کا کوئ بھی موقع وہ ضائع نہیں ہونے دیتے چاہے وہ ضمیر بیچ کر ہی حاصل کیوں نہ ہو رہا ہو ۔


عام آدمی کو بخوبی سمجھ لینا چاہیے کہ اس نظام میں ان کےلئے کوئ خیر کا پہلو نہیں ہے جن کی خاطر وہ اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں وقت آنے پر وہ انہیں اپنے مفاد کےلئے استعمال کرتے ہیں ۔


عمران حکومت کو اب جس چیز نے مشکل سے دوچار کیا ہے وہ ہارس ٹریڈنگ کا وہی پرانا حربہ ہے جو انہیں کے دور حکومت میں سینٹ الیکشن میں آزمایا گیا تھا ۔۔ تبدیلی سرکار اپنے دیگر دعووں میں ناکام ہوئ ویسے ہی اس معاملے میں باقاعدہ کوئ جامع واضح پالیسی اختیار نہیں کرسکی ۔۔


اپوزیشن جس کو بطور ہتھیار حکومت کے خلاف استعمال کررہی ہے وقت پڑنے پر یہی چیز ان کے خلاف بھی استعمال ہوگی ۔ کیونکہ لوٹا پارٹی صرف مفادات کے غلام ہوتے ہیں ان کا نظریہ صرف دولت دولت اور دولت ہوتا ہے چاہے جس زریعے سے بھی آئے انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔


اس نظام سے اور نظام سے مستفید ہونے والے لٹیروں سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے جتنی جلدی اس نظام سے چھٹکارا ممکن ہو حاصل کرنے میں ہی عافیت ہے وگرنہ عوامی جذبات کا کھلواڑ ہوتا رہے گا اور حالات بدلنے کی کوئ امید باقی نہیں رہے گی ۔۔
بس یہ جان لیں جمہوریت عوامی رائے عامہ سے زیادہ سرمایہ دارانہ نظام کی غلام ہے..

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں