تحریر۔۔تحریک عدم اعتماد کی کامیابی حاصل کیا ہوگا ؟

تحریر۔۔تحریک عدم اعتماد کی کامیابی حاصل کیا ہوگا ؟

تحریر۔۔تحریک عدم اعتماد کی کامیابی حاصل کیا ہوگا ؟

کالم نگار۔اظہارالحق خان

حالیہ سیاسی پیشرفت غیریقینی صورت حال اختیار کرچکی یے ممکنہ طور پر عمران حکومت کو سیاسی شہادت کا درجہ ملنے والا ہے تاہم یہ ان کی بڑی کامیابی ہوگی کہ ملنے والے مینڈیٹ کا دورانیہ مکمل نہ کرپائے یوں عوام کے سامنے یہ مقدمہ رکھیں گے کہ اسے مکمل اختیارات کے ساتھ حکومت کرنے ہی نہیں دی گئ لہٰذا سادہ اکثریت کی بجائے بھاری اکثریت سے منتخب کیا جاتا تو تبدیلی کا جو خواب تھا وہ حقیقت بن سکتا تھا۔

چوروں کی ملی بھگت اور سازش ہی تبدیلی کی ناکامی کا موجب بنی ہے ۔۔ عالمی سیاست کی بدلتی صورتحال کو بھی اپنے حق میں پیش کرکے جذباتی عوام کو اشتعال دلانے کی کی سرتوڑ کوشش کیجائے گی جو کہ آئندہ انتخابات میں اپنی پوزیشن کو مستحکم بنانے کی خاطر مزید اقدامات کے طور پر مذیبی سلوگن جذباتی نعروں سے خود کو کیش کرایا جائے گا ۔

یوں حکومت کا خاتمہ ہی تحریک انصاف کےئے نیک شگون ثابت ہوسکتا ہے اور یہ عمران خان کےلئے ایک آئیڈیل صورت حال ہے
تاہم عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت عمران حکومت کے خاتمے سے بہتری کا کوئی امکان موجود نہیں ہے حالات مزید بگاڑ کی طرف گامزن ہیں نظام کی تبدیلی کے بغیر حکومتوں کا بدلنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔

آئندہ کی سیاسی صورتحال میں ایک مخلوط حکومت قائم ہوتی نظر آرہی جو نظریاتی اعتبار سے باہم مخالف دھڑے ہیں وقتی و ذاتی مفاد میں اگرچہ ایک دوسرے کے قریب ہیں لیکن ایک دوسرے کو ناکام بنانے میں پیش پیش رہیں گے ۔۔ عمران حکومت کی بدانتظامی نااہلی کے سبب پیدا ہونے والے اقتصادی و سفارتی بحران سے قوم کو نکالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جس کی ذمہ داری براہ راست کوئ بھی جماعت لینے کو تیار نہ ہوگی ان کی کوشش ہوگی کہ یہ ملبہ کسی دوسرے کے سر جڑ دیا جائے ۔۔

سیکولر نظریات کی حامل جماعتوں کے تعاون و اشتراک سے مولانا فضل الرحمان کو آئندہ کی حکومت میں کوئ مرکزی حیثیت میسر آتی بھی یے تو وہ حلیف جماعتوں کے نظریاتی دائرہ سے باہر نہیں ہوگی یوں مولانا فضل الرحمان کے اقتدار کا خواب تو پورا ہوسکتا ہے لیکن اسلامی اقدار کی جدوجہد کا دعویٰ اپنی اہمیت کھو دے گا جو مذہبی حلقوں میں ان کی مقبولیت میں کمی کا باعث بنے گا


اپوزیشن کی طرف سے قومی حکومت کا اعلان ظاہری احوال میں پرکشش ضرور ہے لیکن حقیقت میں یہ قومی اتحاد سے زیادہ باہمی مشترکہ مفادات کے حصول کی اک کوشش ہے جس سے وطن عزیز ایک بار پھر غیریقینی صورت حال کا شکار رہے گا جس میں تصادم دھرنا سیاست افراتفری کا سماں ہوگا جس سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں ہوگی جو کسی بھی نئ حکومت کےلئے نیک شگون نہیں ہے


ستر سال کی تاریخی روایات میں تو ہر آنے والی حکومت گزشتہ دور کی حکومت سے بدتر ہی ثابت ہوئ ہے کیونکہ مسئلہ شخصی یا جماعتی نہیں بلکہ رائج نظام کی خرابی کا ہے جسے دور کئیے بنا حالات بہتر نہیں ہوسکتے ۔۔ اس لئے خوش فہمی کو زرا سی بھی جگہ نہ دیں اور آئندہ کی مزید تباہی ابتری کےلئے زہنی طور پر تیار رہیں ۔ شخصیت پرستی کے آسیب سے نکل کے حقائق کا جائزہ لینا اور گزشتہ ناکامی سے سبق حاصل کرنا ہی دانشمندی ہے تاکہ مستقبل کی درست منصوبہ بندی کی جاسکے نہ خود دھوکہ میں رہیں نہ دوسروں کو گمراہ کریں

وہ غلطیاں جو ہر بار دیرائ جاتیں ہیں ان میں سے ایک الیکٹیبلز لوٹے فصلی بٹیروں کو قبول کرنا ہے قومی سیاست میں اہمیت دینا ہے یوں وہ ہر بار ہر نئ حکومت سے بھرپور مراعات و مفاد سمیٹتے ہیں حکومت کو مشکل میں دیکھتے ہی نئ اڑان بھر لیتے ہیں یہ ابن الوقت لوگ ہر حکومت کے عدم استحکام کے زمہ دار رہے ہیں ۔ اس لئے ان کے بارے خبردار رہنے کی ضرورت ہے نہ صرف یہ کہ عوام کو شعور دینے کی ضرورت ہے بلکہ ہر سیاسی جماعت کو جامع سیاسی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان لوگوں کو سپیس نہ مل سکے ۔۔

دوسرا اہم نکتہ جو عمران حکومت کی ناکامی کا زریعہ بنا اسے بھی سمجھتے کی ضرورت ہے کہ انقلاب تبدیلی بدلاؤ فرد واحد کی اوقات سے باہر ہے انقلاب نظام میں ترمیم سے نہیں کلی جزویات کو جڑ سے اکھاڑنے سے آتا ہے
لیڈر وہی ہوتا ہے جو اپنی جیسی قیادت متبادل کے طور پر تیار کرے ان کی کردار سازی کرے تاکہ لیڈر کی غیر موجودگی یا اس کی موت کی صورت میں نظام پوری قوت کے ساتھ قائم رہے ۔۔
جو متبادل نظام قوم کو دینا ہے اس پہ پوری گرفت ہو اور پوری جماعت اس قابل ہو کہ ایک عام ورکر بھی منصب پر بٹھا دیا جائے تو نظام درہم برہم نہ ہو یا اس صورت میں ممکن ہے جب قیادت سے ایک عام ورکر تک کی مکمل تربیت کی گئ ہو ۔۔


جماعت میں شامل ہر فرد میں خلوص قربانی ایثار و وفا کا جذبہ ہو لالچ خود پرستی میں مبتلا نہ ہو
بنیادی نظریہ سے انحراف سمجھوتہ دعووں اور وعدوں کے برعکس کوئ بھی دباؤ قبول کرنے والے اپنے نظریے سے مخلص نہیں ہوسکتے وہ ذاتی مفاد چاہتے ہیں لہذا ایسے خصائل کے حامل شخص کو قیادت کا اہل نہیں سمجھا جاسکتا ۔۔


یہ وہ تمام بنیادی خصائل ہیں جو عمران خان سمیت کسی بھی جمہوری سیاسی قیادت کے پاس نہیں ہیں۔۔
اس لئے کسی بھی سیایس مذہبی جماعت کے ساتھ وابستگی رکھتے ہوئے کسی خوشگمانی کو جگہ نہ دیں بلکہ ان کو اس اصول پر پرکھیں کہ جماعت کی قیادت کے ساتھ عام ورکر کی سیاسی شعوری تربیت اور کردار سازی کا اہتمام کیا گیا ہے یا نہیں ۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں