ادب عربی زبان کا لفظ ہے ادب کے معنی شائستگی, لحاظ,تمیز,تہذیب اور علم زبان کے ہیں

ادب عربی زبان کا لفظ ہے ادب کے معنی شائستگی, لحاظ,تمیز,تہذیب اور علم زبان کے ہیں

کالم بنام۔ روح آرزو
موضوع ۔ادب

کالم نگار۔محمد قاسم وحید

ادب عربی زبان کا لفظ ہے ادب کے معنی شائستگی, لحاظ,تمیز,تہذیب اور علم زبان کے ہیں. عالم اسلام کے نامورومشہور فلسفی اور سیاست دان ابن خلدون نے “ادب کو ایک علم قرار دیا”. اگر آپ کے ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا ہے. کہ ادب علم کیسے ہو سکتا ہے؟ تو جی بالکل ادب ایک علم ہی ہے. یہ وہ علم ہے جو انسان کو سڑک سے اٹھا کر کسی تخت پر بٹھا دیتا ہے۔

یہ ادب ہی ہے جو کسی گمنام انسان کو تاریخ کے اوراق میں پیوست کر دیتا ہے. اور اسی ادب کو پا کر انسان ترقی کی ان منازل کو چھو سکتا ہے. جو کبھی اس کے ذہن و گمان میں بھی نہیں. یہ ادب ہی ہے۔ جسے سمجھ کر انسان وہاں تک پہنچ سکتا ہے. جہاں اسے ڈگریاں فلسفے اور ہزاروں کتب کے مطالعہ بھی نہیں پہنچا سکتے.

کیونکہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں اگر آپ نے اپنی ذاتی زندگی میں یہ مشاہدہ کیا ہو۔ و کہ ہمارے معاشرےکے اندر کثیر تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں۔ جو اپنے علم پر بڑا مان رکھتے ہیں۔ جو اپنے آپ کو بڑا مرتبے والا سمجھتے ہیں حالانکہ معاشرے میں ان کی وہ عزت و حیثیت نہیں ہوتی جس کے لائق وہ ہوتے ہیں۔

کیا وجہ کی اتنی ڈگریاں لے کر بھی وہ اپنے معاشرے میں بھی اپنی عزت نہیں کروا سکتے؟ اسی کے مقابلے میں ایک چھوٹا سا آدمی معاشرے کا وہ چھوٹا سا فرد جس کا صرف اخلاق اچھا ہو جو صرف اچھا بولنا جانتا ہوں۔ جس محفل میں جائے لوگ کھڑے ہو کر اس کا استقبال کریں۔ اور اس کے لیے کھڑا ہونا بھی اپنے آپ کے لئے فخر کا باعث سمجھیں۔

۔کبھی آپ نے سوچا کہ یہ فرق کیوں؟ اگر علم پر جائیں تو اتنی ڈگریاں لے کر بھی ایک پڑھا لکھا آدمی اپنے معاشرے میں کیونکراپنی عزت نہیں کروا سکتا تو اسی کے مقابلہ میں دوسرا آدمی وہ دوسرا آدمی جس نے شاید کے میٹرک کے بعد کالج کا منہ بھی نہ دیکھا ہو شاید کہ اس نے علم کسی بڑے استاد سے نہ حاصل کیا ہو

شاید کہ وہ کسی مدرسے یا سکول کا سینئر بھی نہ ہو۔ اور لوگ اس کے ملنے کو بھی اپنا فخر سمجھیں اس کی کیا وجہ کہ جہاں ایک ڈگری ہولڈر نہ پہنچ سکا وہاں ایک عام سا انسان اس مسند پر کیسے بیٹھ گیا؟تو ان سوالات کا ایک ہی جواب ملتا ہے۔ اور وہ ہے ادب و احترام آپ کے بات کرنے کا وہ انداز و لہجہ جو ایک ڈگری والے کو بھی آپ کے تابع کر سکتا ہے

اگر آپ اپنی گفتگو میں اپنے انداز بیاں میں اپنے علم کی جگہ خلوص،پیار،محبت بانٹیں گے تو لوگ آپ کو خود کہیں گے کہ علم کی روشنی میں ہماری رہنمائ فرمائیں کیونکہ علم سے آپ ڈگریاں تو حاصل کرسکتے ہیں علم آپ کو کوئی اچھی نوکری تو دلوا سکتا ہے علم آپ کو اچھی کرسی پر تو بیٹھاسکتا ہے پر وہ نوکری وہ مرتبہ وہ منصب سنبھالنے کے لیے آپ کو ہر قدم پر اپنا آپ سنوارنا پڑتا ہے اور اپنا آپ سنوارنے کے لیے ادب ایک لازمی جزو ہے۔

کیونکہ ادب انسان کی ثقافت کا ایک ایسا عملی نمونہ ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہی انسان اس دنیا فانی اور آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اگر آسان الفاظ میں کہا جائے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر چیز عقل کی محتاج ہے اور عقل ادب کی محتاج ہے۔
بھری محفل میں راز کی بات کہہ دی بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں۔

آپ نے بہلول کا نام تو ضرور سنا ہوگاجنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کا اصل نام وہب بن عمرو تھا آپ عشق الہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف توجہ کرتےلیکن جب کبھی عوام کی طرف توجہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ ایک روز بہلول دانا کسی نخلستان (کھجوروں کے باغ) میں تشریف رکھتے تھے

ایک تاجر کا وہاں سے گزر ہوا وہ آپ کے پاس آیا اور سلام کر کے سامنے بیٹھ گیا۔ انتہائی ادب سے گزارش کی حضور تجارت کی ایسی کونسی جنس خریدوں جس میں بہت نفع ہو بہلول دانا نے فرمایا کالا کپڑا لے لو تاجرنے شکریہ ادا کیا اور الٹے قدموں سے چلتا ہوا واپس چلا گیا جا کر اس نے علاقے میں دستیاب تمام کپڑا خرید لیا

کچھ دنوں بعد شہر کا بہت بڑا آدمی انتقال کر گیا تو اس کے لئے سارا شہر سیاہ کپڑے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اس نے منہ مانگا دام لیا اور کپڑا فروخت کیا۔اس نے زندگی بھر میں اتنا منافع نہیں کمایا جتنا اس نے کچھ وقت میں کمالیا اور وہ تاجر بہت امیر ہو گیا کچھ عرصے بعد اس تاجر کا گزر پھر وہاں سے ہوا اب کی بار وہ امیر ہو چکا تھا

اس کے پاس دولت کی فراوانی موجود تھی۔ اسی غرور میں گھوڑے پرسے آواز دے کر کہنے لگا۔ اوو دیوانے اب کی بار کیا خریدو تو بہلول دانا نے کہا کہ تربوز وہ بھاگا بھاگا گیا۔ اور ساری دولت سے پورے ملک سے تربوز لئے کچھ ہفتے گزرے بہلول دانہ سے آکر کہنے لگا کہ یہ آپ نے میرے ساتھ کیا کیا تربوز تو سارے خراب ہو گئے اور میں کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا

جناب بہلول دانا نے جواب دیا میں نے نہیں تیرے لہجے اور تیرے الفاظ نے سب کیا جب تو نے ادب سے پوچھا تو مالا مال ہوگیا۔ اور جب گستاخی کی تو کنگال ہو گیا۔بے شک قانون فطرت بھی یہی ہے کہ۔ جس نے علم کے ساتھ ادب حاصل نہ کیا وہ زمانے میں ذلیل و رسوا ہوا ذلالت اس کا مقدر بنی اور جس نے علم کے ساتھ ادب حاصل کیا

جس نے اپنے اساتذہ اور سینئرز کی عزت کی اس دنیا میں اور آخرت میں اسی نے کامیابی کا سامان اکٹھا کیا اگر میں کالم کے اختتام پر حیدر علی آتش کا یہ شعرقارئین کی نظر کرو تو مناسب ہو گا۔

جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں