ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ کامیابی میرے قدم چومے

ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ کامیابی میرے قدم چومے

تحریر…کامیابی کا راز

کالم نگار۔۔۔مفتی محمد امان اللّٰہ خان بندیالوی

ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ کامیابی میرے قدم چومے۔ میں خوب ترقی کروں، آگئے بڑھوں،دشواریاں دور ہوں،عزت و احترام ملے، لوگ اچھے سلوک اور نمایاں رویے سے پیش آئیں۔ یہ سب چیزیں خود بخود آ جائیں مجھے کچھ بھی نہ کرنا پڑے۔ کیا ایسی کامیابی اور ترقی بلا کچھ کیئے قدم چومے گی بلکہ یہ تو ایک خواب ( Dream) ہی بن کر رہے جائے گا۔ آخر کچھ پانے کیلئے کچھ تو کھونا پڑے گا۔ آخر وہ کیا چیز ہے۔ جس سے ایک خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے یقیناً وہ ہے ایک منزل کا انتخاب جب انسان ایک منزل کو تعین کر لیتا ہے سمجھو وہ کامیابی کا راہ ہموار کرنے میں اپنی ساری توانائیاں لگا دے گا جب انسان منزل کا متلاشی بن گیا تو اپنی منزل مقصود تک پہنچ گیا ۔ جب منتخبہ منزل پر پہنچا تو کامیابی حاصل ہو گئ۔
منزل منتخبہ کو حاصل کرنے کیلئے چند ایک چیزوں میں اپنے آپ کو ڈھالنا پڑے گا۔
(1) تیاری کامیابی ہی اصل میں کامیابی ہے۔ ہمہ وقت راہ گیر ہونا (2) خارزاروں سے گزرنا کیونکہ لوگوں کی مخالفتیں، تمسخر،طعن و طنز ، کے تیروں سے جگر کو چھلنی چھلنی کرا کر بھی سمت منزل منتخبہ کی ہی ہو۔ (3) منزل منتخبہ کے جزبہ میں سرشاری ہو۔
(4) ناکامی کا ڈر
انسان جونہی زندگی میں کوئی بڑا عمل کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے ذہن میں سب سے پہلے یہ خیال آتا ہے کہ “اگر میں یہ نہ کر سکا تو؟” ناکام ہو جانے کا یہ ڈر ہی اس کی تمام توانائی نچوڑ لیتا ہے اور ناکامی مقدر بن جاتی ہے۔ اس منفی سوچ سے بہت پرے رہنا چاہیے۔

1


(5) “لوگ کیا کہیں گے؟”
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ایک ایسا کلچر پروان چڑھ چکا ہے۔ کہ جس میں انسان کی زندگی پر اس سے زیادہ حق اردگرد کے لوگوں اور رشتہ داروں کا بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اکثر اپنی زندگی کے اہم فیصلے لوگوں کی سوچ اور مرضی کو مد نظر رکھتے ہوئے کرتا ہے۔ لوگوں کا ڈر انسان کو پوری طرح اپنے دل اور دماغ کی بات سننے نہیں دیتا جو کہ اس کی ناکامی کا سبب بن جاتی ہے۔
(6) تنہائی کا ڈر
لوگوں کا ساتھ نہ ملنا اور اکیلے رہ جانے کا ڈر انسان کو اندر سے کمزور بنا دیتا ہے۔ جب انسان کوئی کام کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھاتا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس کام کے حق میں نہیں ہوتی تو انسان تنہا رہ جانے کے خوف سے اپنا ارادہ ہی ترک کر دیتا ہے۔
(7) غیر یقینی پن
جب انسان کسی کام کا ارادہ کرتا ہے لیکن اس بات سے لاعلم ہوتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا تو وہ ڈر جاتا ہے۔ اس کے دل میں منفی خیالات آنے لگتے ہیں، وہ سوچنے گلتا ہے کہ اگر اس کا نتیجہ حسب منشا نہیں نکلا تو کیا ہو گا؟ یہی خدشات اسے آگے بڑھ کر اس کام سے روک دیتے ہیں۔

2


(8) احساس کمتری
انسان کے اندد موجود احساس کمتری اسے کبھی آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنا یا کسی قابل نہ سمجھنے کا احساس زندگی میں صرف پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے۔ جب تک انسان خود پر اور اپنی قابلیت پر یقین نہیں کرتا اس وقت تک وہ کبھی آگے نہیں بڑھتا۔
(9) کارکردگی نہ دکھانے کا ڈر
کسی کام کی شروعات میں انسان کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے۔ کہ وہ اسے اچھے انداز میں انجام نہیں دے سکے گا۔ اس وجہ سے اکثر مایوس ہو کر انسان اسے ترک کر دینے کا ارادہ کر لیتا ہے۔ یہ بڑی غلطی ہوتی ہے۔ کیونکہ خود پر یقین اور محنت ہی انسان کو ترقی کی طرف لے کر جاتی ہی
اللّٰہ پاک ہم سب کو کامیاب کرے منزل منتخبہ میں۔ آمین

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں