جس عورت کو طلوع اسلام سے پہلے زندہ درگور کردیا جاتا تھا

جس عورت کو طلوع اسلام سے پہلے زندہ درگور کردیا جاتا تھا

کالم۔۔۔ہم سو گئے

نامہ نگار:محمد حسنین کلو

جس عورت کو طلوع اسلام سے پہلے زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ جس عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اس عورت کے ہر روپ کو اسلام نے وہ بلند مقام و مرتبہ دیا کہ دنیا دیکھتی ہی رہ گٸی۔ جیسا کہ عورت ایک ماں ہے۔ جس کے لیے امام الانبیاحضرت مُحَمَّد ﷺنے فرمایا کے اگر آج میری ماں زندہ ہوتی تو میں نماز پڑھ رہا ہوتا اور ماں مجھے بلاتی میں نماز چھوڑ کر حاضر ہوجاتا۔

عورت جب ایک بہن کے روپ میں سامنے آٸی تو آپﷺ نے فرمایا شیما ؓ تم خود آگیٸں پیغام بھجوا دیتی میں آپ کے قیدی رہا کر دیتا۔ عورت جب ایک بیٹی کے روپ میں سامنے آٸی(حضرت فاطمہؓ) وجہ تخلیق کائنات حضرت مُحَمَّد ﷺ ان کے استقبال کے لی ےکھڑے ہوجاتے تھے۔آپﷺ کے یہ تمام عمل ہمیں یہ سبق دیتے ہیں۔ کہ عورت ایک نرم و نازک کمزور ذات ہے ان کا سہارا ایک مرد ہی بن سکتا ہے۔

طلوع اسلام سے پہلے اور آج فرق صرف اتنا رہ گیا ہے۔ کہ تب ایک عورت کو پیدا ہوتے ہی دفن کر دیا جاتا تھا۔ اور ان کے حقوق بھی ان کے ساتھ ہی دفن ہوجاتے تھے۔ اور آج بیٹی کو زندہ دفن نہیں کیا جاتا بلکہ اِن کو اسلامی تہذیب کو بچانے کےلیے بطور سپاہی لڑنا ہے۔

1


اسلام کی شہزادیاں اپنے اسلامی حقوق کی پاسداری اور سر بلندی کےلیے جنگ خود لڑ رہی ہیں انہیں لڑنے کےلیے میدان جنگ میں سپاہی بنا کر بھیجا جا رہا ہے۔ بھارت میں اسلامی حجاب پر پابندی لگا دی گٸی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد ٢٠ کروڑ سے زیادہ ہے۔ افسوس صد افسوس کے اس پابندی کے خلاف آواز بھی صرف نہتی ایک عورت ہی بلند کررہی ہے۔

جسطرح آج کل تقریبا تمام اسلامی ملکوں میں بلکہ پوری دنیا میں یہ خبر شہ سرخیوں میں چل رہی ہے کہ اسلام کی اکیلی بیٹی (مسکان) ہندومت سے سینہ تان کے لڑ رہی ہے۔ اسلام کے رکھوالوں کے یہ بیان ختم نہیں ہورہے۔ کہ ہمیں فخر ہے ایک مسلمان لڑکی حجاب کی پابندی کے خلاف آواز بلند کررہی ہے۔

ان کے سر تو شرم سے جھک جانے چاہییں تھے۔ ان کو ڈوب مرنا چاہیے۔ کہ جس کی جنگ ہم نے لڑنی تھی وہ ہمارے حصے کی جنگ بھی وہ خود لڑ رہی ہے۔ مگر اس قوم کے بیٹوں نے بھی تو اپنا فرض باخوبی نبھایا ہے نا کہ ہماری بہن ہماری بیٹی اکیلی کفر سے لڑ رہی ہے۔ ہم بڑی دلیر قوم ہیں ہماری بیٹیاں ہماری بہنیں لڑتی ہیں۔ اور ہمارا کام سوشل میڈیا پہ فخریہ پوسٹیں کرنا ہے۔


ہے یہ وہی مسلم قوم جو سندھ کی ایک مجبور بیٹی ناہید کی آواز پہ عرب سے ایک لشکر جرار نکلی۔ اور ظلم کو صفحہ ہستی سے مٹاتی چلی گٸی۔ لیکن افسوس ہے کہ آج وہ عرب قوم بھی سو رہی ہے۔ جسکی مٹی سے دونوں جہانوں کے سردارحضرت مُحَمَّد ﷺ نے جنم لیا۔ جسکی گود میں حضرت عمؓر جیسے مہتمم،خالؓد بن ولید جیسے سپہ سالار اور محمدؒ بن قاسم جیسے جری جوان پیدا ہوۓ۔

2

آج کے مسلمان کے کان تک کشمیر کی باعصمت بیٹی کی آواز نہیں پہنچ رہی۔ آج کشمیر کی شہزادیاں ہاتھوں میں پتھر اٹھاے بندوقوں کا مقابلہ کررہی ہیں۔ فلسطین برما کی بیٹیوں کی چیخ پکار عالم اسلام کے کسی سپاہی کو سناٸی نہیں دے رہی۔پاکستان ایٹمی طاقت ہے ایران بھی ایٹمی پاور حاصل کر چکا ہے عرب کا شمار دنیا کے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔

لیکن اس قوم کی بیٹیاں اپنی جنگ خود لڑتی ہیں۔ اور اس کے محافظ صرف بیان دینے تک محدود ہیں۔ جن کے ہاتھوں میں ان کی رکھوالی کےلیے ہتھیار ہونے تھے۔ ان ہاتھوں میں صرف موبائل فون ہیں۔ جن سے ہم status لگا کر یہ فخر محسوس کررہے ہیں کہ اسلام کی باحجاب بیٹی اپنی جنگ خود لڑ رہی ہے۔ یہ بڑی دلیر قوم کی بیٹی ہے ہم اس کے محافظ ہیں۔ ہم نے ان کو سوشل میڈیا پہ ٹاپ ٹرینڈ بنانا ہے ۔
ڈوب مرنے کا مقام ہے ہمارے لیے۔

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں