لفظ” خودی” فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی خود رہنمائی یا خود مختاری کے ہیں

_لفظ خودی فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی خود رہنمائی یا خود مختاری کے ہیں

کالم بنام ۔۔۔روح آرزو

کالم نگار۔۔۔ محمد قاسم وحید

عنوان۔۔۔خودی

لفظ” خودی” فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی خود رہنمائی یا خود مختاری کے ہیں۔ اگر آپ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو پڑھتے ہیں۔ تو ان کے کلام و اشعار میں لفظ خودی کی کثرت پائی جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اپنی انا کو معاشرے پر فوقیت دیں۔ خودی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ جو جی میں آئے جس طرح آپ کا من چاہے۔ اس طرح کریں بلکہ خودی کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے اندر ایک ایسی روشنی پیدا کریں جو بجھے ہوئے چراغوں کو ایک نئ حیات بخش دے جو ویران دلوں کو سرسبز و شاداب کر دے جس دن خودی کا یہ جذبہ پروان چڑھ گیا تو آپ دیکھیں گے کہ معاشرے میں ایک الگ نظریہ آپ کے بارے میں پروان چڑھے گا حدیث مبارکہ ہے
من عرف نفسہ فقد عرف ربہ
ترجمہ!جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا

1


جیسا کہ حدیث مبارکہ سے بھی ظاہر ہے کہ اپنے آپ کو پہچاننا کس قدر اہمیت کا حامل ہے اگر صرف مفہوم کو سمجھا جائے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس نے اپنے آپ کو پہچانا جس نے اپنی خودی کو پہچانا دراصل اسی نے اللہ رب العزت کی ذات کو پہچانا یعنی جس نے اپنے آپ میں موجود اچھی عادات و اخلاق کو اپنے معاشرے میں بکھیرنے کی کوشش کی تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ آپ کا معاشرہ آپ سے خوش ہو جائے گا اور جب آپ کا معاشرہ آپ سے خوش ہوگا تو اللہ رب العزت کی ذات بابرکت بھی آپ سے خوش ہو جائے گی
اب آتے ہیں اس موضوع کی دوسری جانب لفظ خودی کا مطلب خودمختار بننا بھی ہے تو آپ اپنی خودی سے خود مختار کیسے بن سکتے ہیں؟ بقول اقبال،
منکر حق نزد ملا کافر است
منکر خود نزد من کافر تر است

2


علامہ محمد اقبال کہتے ہیں کہ خدا کا منکر علماء کے نزدیک کافر ہے اور میرے نزدیک اپنے آپ سے جو بندہ ناواقف ہے وہ کافر ہے یعنی جو شخص اپنے آپ کی پہچان نہیں رکھتا وہ انسان اشرف المخلوقات کا لقب کیونکر حاصل کرسکتا ہے ہمیشہ خودی سے آشنا انسان اپنے کام سے کام رکھنا ہے یہ انسان اپنا زیادہ تر وقت اپنے آپ کو دیتا ہے اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات کوشاں رہتا ہے خودی سے آشنا انسان ہمیشہ اپنے اخلاق و عادات سے آپ کو ایک نئی راہ فراہم کرتا ہے آپ کو اپنا آپ اجاگر کرنے کی ترغیب دیتا ہے اپنے اور معاشرے کے لئے اچھے فیصلے کرتا ہے اور آپ کو زندگی کے ان مراحل کے بارے میں بتاتا ہے جن پر چل کر اپنے آپ کو منزلِ مقصود تک پہنچا سکتے ہیں

اسی کے برعکس کچھ لوگ خودی سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ انکا زیادہ تر وقت خوش گپیوں اور گلی کوچوں کے چوکوں پر گزرتا ہے۔ جو لوگ اپنے آپ سے ناآشنا ہوتے ہیں دوسروں کا ہر عیب ان کو پتہ ہوتا ہے آپ جس وقت ان کی محفل میں ان سے ہم کلام ہوتے ہیں تو وہ کسی نہ کسی کی برائی کر کے اپنی اعلی ظرفی کا ثبوت دیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم کسی کی برائی کرکے بہت بڑا معرکہ سر انجام دے رہے ہیں

3

ان باتوں سے وہ آپ کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر آپ ان سے پوچھ بیٹھیں کہ ہاں وہ تو ایسا ہی ہے پر آپ کی کیا خوبی ہے تو گویا ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے یاد رکھیں ایسے انسانوں کی محفل سے ہمیشہ اپنے آپ کو محفوظ رکھیں کیونکہ ایسی محافل میں بیٹھنے سے ایک تو آپ کی عقل کو نقصان پہنچے گا اور دوسرا بلاوجہ لوگوں کے عیب آپ تک پہنچیں گیں اپنی گفتار سے زیادہ اپنے کردار کو صاف رکھیں خوش رہیں خوشیاں بانٹیں جو گراں ہو اس کو ہاتھ دے کر اٹھانا سیکھیں نہ کہ کسی کو ایڑھی دے کر گرائیں۔علامہ محمد اقبالؒ انہی الفاظ کو اپنے انداز میں قلم بند کرتیں ہیں
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا

مزید پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں