سینیٹ سے اوگرا بل منظور، اپوزیشن کو ایک اور شکست

سینیٹ سے اوگرا بل منظور، اپوزیشن کو ایک اور شکست

اسلام آباد – سینیٹ میں اپوزیشن کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب حکومت پارلیمنٹ کے ایوان بالا سے تین بل منظور کروانے میں کامیاب ہو گئی۔
ووٹنگ سے قبل سینیٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے کہا۔ کہ قیمت کی منظوری سے قبل عوامی سماعت ضروری ہے۔ تاہم قائد ایوان سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی میں اتفاق رائے سے پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بل کو مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے رکھنا چاہیے تھا۔ لیکن دوسری جانب وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے واضح کیا کہ بل اوگرا کو بااختیار بناتا ہے۔ اور اس کا آئی ایم ایف اور سی سی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بل ایوان میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا۔ اور دلاور خان گروپ کی جانب سے بل کے حق میں ووٹ دینے کے بعد سینیٹ سے بل منظور کر لیا گیا۔

ابتدائی ووٹنگ میں 29 سینیٹرز نے بل کے حق میں ووٹ دیا۔ اور اتنی ہی تعداد میں قانون سازوں نے بل کے خلاف ووٹ دیا۔ تاہم چیئرمین صادق سنجرانی کی جانب سے بل کے حق میں ووٹ دینے کے بعد۔ ایوان بالا سے بل کی منظوری دے دی گئی۔

الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل کے بل کے دوران بھی ایسا ہی ہوا۔ چیئرمین سینیٹ نے قانون کے حق میں فیصلہ کیا۔

شبلی فراز نے اپوزیشن پر انتخابی اصولوں کا حوالہ دینے اور حقائق کو مسخ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفادات کا خیال رکھنا ریگولیٹری اتھارٹیز کا کام ہے۔ اور حکومت انہیں بااختیار بنا رہی ہے کہ وہ انہیں ایگزیکٹو کے اثر و رسوخ سے آزاد کر سکیں۔

2

پیپلز پارٹی کے تاج حیدر نے کہا۔ کہ آگے بڑھنے کا راستہ لائن لاسز کو کنٹرول کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ نہ کہ ٹیرف میں بار بار اضافہ۔ انہوں نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام شروع کرنے پر بھی زور دیا۔ تاکہ سستی گیس مل سکے۔

پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے ریگولیٹری اتھارٹیز کو بین الاقوامی کثیرالجہتی اداروں کو براہ راست جوابدہ بنانے کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی اداروں کو آئی ایم ایف کے ماتحت کرنے کے۔ باوجود پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اعظم نذیر تارڑ نے قانون سازی کے کام میں سنجیدگی پر زور دیا۔ اور زور دیا کہ قوانین کی منظوری کے دوران آئین کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا۔ کہ ایوان سے ڈیڑھ منٹ کے اندر اندر دور رس اثرات والے بل پاس ہو گئے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا۔ کہ ایک ’ذہین وزیر قانون‘ کی موجودگی میں سنگین قانونی خامیوں والے بل ایوان میں کیسے آ گئے۔

اس تحریک کو تقسیم کے ذریعے ووٹ دینے کے لیے پیش کیا گیا تھا، لیکن ہر ایک کے 29 ووٹوں سے برابری ہوئی تھی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی کاسٹنگ ووٹ کے بعد تحریک التواء منظور کر لی گئی۔

اوگرا (ترمیمی) بل، 2022 اور اوگرا (دوسری ترمیم) بل، 2022 پھر اپوزیشن کی غیر موجودگی میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا اور ایوان کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں